تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 438 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 438

گئی تھی تو نیند کی خود ہی نفی ہو جاتی ہے۔پھر نیند کی نفی کی کیا ضرورت تھی؟ سو یاد رکھنا چا ہیے کہ اس میں ایک حکمت ہے۔اور وہ یہ کہ سِنَۃٌ اس کو کہتے ہیں کہ جب سخت نیند کی وجہ سے انسان کی آ نکھیں بند ہو جائیں۔چنا نچہ جب انسان کو بہت زیادہ نیند آ ئی ہو ئی ہو اس وقت اونگھ آتی ہے۔اور جب تک نیند کا غلبہ نہ ہو اونگھ نہیں آ تی۔تو فر ما یا کہ خدا تعالیٰ کو کبھی اونگھ نہیں آ تی کہ کام کرنےکی وجہ سے وہ تھک گیا ہو۔اور اس پر نیند کا ایسا غلبہ ہو کہ اس کی آ نکھیں بند ہو گئی ہوں اور نہ اسے معمولی نیند آ تی ہے۔غر ض تر تیب بیان کے لحا ظ سے سِنَۃٌ کا ہی پہلے ذکر آ نا ضروری تھا۔اور نوم کا بعد میں۔پھر فر ما یا۔لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ تمہارا آ قا ایسا ہے کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب کچھ اسی کا ہے۔ایسی صورت میں تم اس کے مقا بلہ میں کسی اور کو اپنا آ قا کس طر ح بنا سکتے ہو؟پھر بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم خدا تعالیٰ کے سوا اور کسی کی عبادت تو نہیں کر تے ہاں دوسروں کونیازیں دیتے اور ان سے مرادیں ما نگتے ہیں کیو نکہ وہ خدا تعالیٰ کے مقرب ہیں اور وہ خدا تعالیٰ کے حضور ہماری شفاعت کریں گے۔خدا تعالیٰ فر ما تا ہےمَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ۔ہمارے حکم کے بغیر تو کو ئی شفا عت ہی نہیں کر سکتا۔پس تمہاری یہ امید بھی غلط ہے اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بڑ ھ کر اور کو ن ہے؟لیکن حضرت مسیح مو عودعلیہ السلام نے ایک دفعہ جب نواب محمد علی خان صاحبؓ کے لڑ کے عبد الر حیم خان کےلئے جبکہ وہ شد ید بیمار تھا دُعا کی تو الہام ہوا کہ ’’ تقدیر مبرم ہے اور ہلا کت مقدر۔‘‘ آ پ کو خیال آ یا کہ نواب صا حب سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر قا دیان آ رہے ہیں۔ان کا لڑ کا فوت ہو گیا تو انہیں ابتلاء نہ آ جا ئے۔اس لئے آ پ نے خدا تعالیٰ کے حضور عرض کیا کہ الٰہی میں اس لڑ کے کی صحت کے لئے شفا عت کر تا ہوں۔اس پر آپ کو بڑے زور سے الہا م ہوا مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ یعنی تم کو ن ہو جو میری اجا زت کے بغیر شفا عت کر تے ہو؟ اب دیکھو حضرت مسیح مو عو دعلیہ الصلوۃو السلام کتنے بڑے انسان تھے!تیرہ سو سال سے دنیا آ پ کی منتظر تھی۔مگر وہ بھی سفارش کر تا ہے تواللہ تعالیٰ فر ما تا ہے کہ تم کو ن ہو کہ بلا اجا زت سفارش کرو؟ حضرت مسیح مو عودعلیہ الصلوۃو السلام فر ما یا کر تے تھے کہ جب مجھے یہ الہا م ہوا۔تو میں گر پڑا اور بدن پر رعشہ طا ری ہو گیا اور قر یب تھا کہ میری جان نکل جا تی۔لیکن جب یہ حا لت ہو ئی تو اللہ تعالیٰ نے فر ما یا۔اِنَّکَ اَنْتَ الْمَجَازُ۔اچھا۔اب ہم شفا عت کی اجازت دیتے ہیں۔چنا نچہ آپ نے شفاعت کی۔اور عبد الرحیم خان اچھے ہو گئے۔(الہام مؤرخہ ۲۵؍ اکتوبر ۱۹۰۳ء) غر ض جب مسیح موعودعلیہ السلام جیسے انسان کو۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ تم کون ہو جو بلا اذن سفارش کرو تو اور لو گوں کی کیا حیثیت ہے کہ کسی کی سفارش کر سکیں؟