تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 437 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 437

دیکھ کر وہ قرض خواہ کہنے لگا کہ یہ کیسی عجیب بات ہے کہ میری رقم تو ماری ہی تھی اس غریب کی اٹھنّی بھی ہضم کر لی۔غرض وہ دونوں شور مچا تے رہے اور وہ بزرگ اطمینان سے اپنی جگہ بیٹھے رہے۔اتنے میں ایک شخص آ یا اور اس نے اپنی جیب میں سے ایک پڑیہ نکال کر انہیں پیش کی۔اور کہا کہ فلاں امیر نے آ پ کو نذرانہ بھیجا ہے۔انہوں نے اسے کھو لا تو اس میں روپے تو اتنے ہی تھے جتنے قر ض خواہ ما نگتا تھا مگر اس میں اٹھنّی نہیں تھی۔کہنے لگے۔یہ میری پڑ یہ نہیں اسے واپس لے جاؤ۔یہ سنتے ہی اس کا رنگ فق ہو گیا۔اور اس نے جھٹ اپنی جیب سے ایک دوسری پڑ یہ نکالی اور کہنے لگا مجھ سے غلطی ہو گئی ہے۔آ پ کی پڑ یہ یہ ہے۔انہوں نے اسے کھو لا۔تو اس میں اتنے ہی روپے تھے جو قار ض ما نگ رہا تھا اور ایک اٹھنی بھی تھی۔انہوں نے دونوں کو بلا یا۔اور وہ روپے انہیں دے دئیے۔غر ض زندہ خدا اپنے بندوں کی تائید میں ہمیشہ اپنے نشا نات دکھا تا رہتا ہے۔پھر وہ اَلْقَيُّوْمُ ہے۔کو ئی کہہ سکتا ہے کہ اب تو میرا یہ آ قا ہے لیکن پہلے میں فلاں کے پاس ملازم رہ چکا ہوں۔اس لئے اس کا بھی مجھ پر احسان ہے اور میرے لئے اس کی قدر کرنا بھی ضروری ہے۔خدا تعالیٰ فر ما تا ہے کہ میں تمہارا آج خدا نہیں بنا بلکہ ہمیشہ سے خدا ہوں۔تم پر کسی کا پچھلا احسان نہیں ہے۔میں وہ خدا ہوں جو ہمیشہ قا ئم رہنے والا اور تمہیں قا ئم رکھنے والا ہوں۔اس لئے تم پر میرا ہی احسان ہے کسی اور کا احسان نہیں۔پھر فر ماتا ہے لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّ لَا نَوْمٌ ممکن ہے کو ئی کہے کہ مان لیا خدا ایک ہی ہے اس کے سوا اور کوئی نہیں۔وہ ہمیشہ زندہ ہے۔اور وہی ہمارا پہلے آ قا تھا اور وہی اب بھی ہے۔مگر ایسا بھی تو ہو سکتا ہے کہ خدا کو نیند آ ئے اور وہ سو جائے۔اور اس وقت اس کی جگہ اس کے درباری کام کریں۔اس لئے انہیں بھی خو ش رکھنا چاہیے اور ان کی بھی خوشامد کر نی چا ہیے۔اللہ تعالیٰ فر ما تا ہے۔تمہارا وہ اللہ ہے کہ اس کو کبھی اونگھ اور نیند نہیں آ تی تم اس کو دنیوی با دشا ہوں اور حا کموں کی طر ح نہ سمجھو۔جہاں تمہیں درباریوں کی خو شامد کر نی پڑتی ہے۔تمہارا خدا ایسا نہیں کہ کبھی اسے اونگھ آئے یا وہ سو جائے۔وہ ہر وقت جا گتاہے اور ہر ایک بات کا خود نگران ہے۔اس میںاللہ تعالیٰ نے کیا ہی لطیف بات بیان فر مائی ہے فر ما تا ہے۔لَا تَاْ خُذُہٗ سِنَۃٌ وَّلَا نَوْمٌ کہ اس کو نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند۔تر تیب کلام کا یہ قا عدہ ہے کہ پہلے چھو ٹی باتو ں کا ذکر ہو تا ہے۔پھر بڑی بات کا۔اگر اس کے خلاف کیا جائے تو کلام غلط ہو جاتا ہے۔مثلاً یہ تو کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص سخت بیمار نہیں تھا بلکہ وہ تو کچھ بھی بیمار نہ تھا۔لیکن اگر یہ کہا جائے کہ فلاں شخص کچھ بیمار نہیں تھا بلکہ وہ تو زیادہ بیمار بھی نہ تھا تو فقرہ غلط ہو جاتا ہے۔کیو نکہ پہلے بڑا اور پھر چھو ٹا درجہ بیان کیا جاتا ہے۔مگر یہاںاللہ تعالیٰ فر ما تا ہے کہ نہ اسے اونگھ آ تی ہے اور نہ نیند۔حالا نکہ جب اونگھ کی نفی کر دی