تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 436 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 436

دکھاتا چلا جائےگا۔کیونکہ وہ حَیيُّ و قَیُّوْمُ خدا ہے اور وہ لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّ لَا نَوْمٌکا مصداق ہے۔اس پر اونگھ اور نیند ہی نہیں آ تی تو اس کے زندہ نشانات کا سلسلہ کس طرح ختم ہو سکتا ہے؟ جب ایسے خدا سے انسان اپنا تعلق پیدا کر لیتا ہے تو اس کی ضرورتوں کا وہ آپ کفیل ہو جاتا ہے اور ہمیشہ اس کی تا ئید کے لئے اپنے غیر معمولی نشا نات ظاہر کرتاہے۔ہم نے دیکھا ہے حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ کے پاس اکثر لوگ اپنی اما نتیں رکھواتے تھے اور آپ اس میں سے ضرورت پر خرچ کر تے رہتے تھے۔آ پ فر ما یا کر تے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضل سے اس طرح رزق دیتا رہتاہے بعض دفعہ ہم نے دیکھا کہ اما نت رکھوا نے والا آ پ کے پاس آتا اور کہتا کہ مجھے روپیہ کی ضرورت ہے۔میری اما نت مجھے واپس دےدی جائے۔آپ کی طبیعت بڑی سادہ تھی اور معمو لی سے معمولی کا غذ کو بھی آ پ ضا ئع کر نا پسند نہیں فر ماتے تھے۔جب کسی نے مطا لبہ کر نا توآپ نے ردی سا کا غذ اٹھا نا اور اس پر اپنے گھروالوں کو لکھ د ینا کہ امانت میں سے دو سو روپیہ بھجو ا دیا جائے۔اندر سے بعض دفعہ جوا ب آ تا کہ روپیہ تو خرچ ہو چکا ہے یا اتنے روپے ہیں اور اتنے رپوؤں کی کمی ہے۔آپ نے اسے فر ما نا کہ ذرا ٹھہر جاؤ۔ابھی روپیہ آ جاتا ہے۔اتنے میں ہم نے دیکھنا کہ کوئی شخص دھو تی باندھے ہوئے جوناگڑھ یا بمبئی کا رہنے والا چلا آرہا ہے اور اس نے آ کر اتنا ہی روپیہ آپ کو پیش کر دینا۔ایک دن تو لطیفہ ہوا کسی نے اپنا روپیہ ما نگا۔اس دن آ پ کے پا س کو ئی روپیہ نہیں تھا مگر اسی وقت ایک شخص علاج کےلئے آ گیا۔اور اس نے ایک پڑیہ میں کچھ رقم لپیٹ کر آ پ کے سامنے رکھ دی۔حافظ روشن علی صا حبؓ کو علم تھا کہ روپیہ ما نگنے والا کتنا روپیہ مانگتا ہے۔آ پ نے حافظ صا حبؓ سے فر ما یا دیکھو! اس میں کتنی رقم ہے؟ انہوں نے گنا تو کہنے لگے بس اتنی ہی رقم ہے جتنی رقم کی حضور کو ضرور ت تھی۔آ پ نے فر ما یا یہ اس کو دے دو۔اسی طرح آ پ ایک پرانے بزرگ کا وا قعہ سنا یا کر تے تھے کہ ایک دفعہ ایک قر ض خواہ ان کے پا س آ گیا۔اور اس نے کہا کہ آپ نے میری اتنی رقم دینی ہے اور اس پر اتنا عرصہ گذر چکا ہے اب آپ میرا روپیہ ادا کر دیں۔انہوں نے کہا کہ میرے پاس تو ہے نہیں جب آئےگا دے دوںگا۔وہ کہنے لگا۔تم بڑے بزرگ بنے پھرتے ہو اور قر ض لے کر ادا نہیں کرتے یہ کہاں کی شرافت ہے۔اتنے میں وہاں ایک حلوہ بیچنے والا لڑکا آ گیا۔انہوں نے اس سے کہا کہ آ ٹھ آنے کا حلوہ دےدو۔لڑکے نے حلوہ دےدیا اور انہوں نے وہ حلوہ اس قارض کو کھلا دیا۔لڑکا کہنے لگا کہ میرے پیسے میرے حوالے کیجئیے۔وہ کہنے لگے تم آ ٹھ آ نے مانگتے ہو اور میر ے پاس تو دو آ نے بھی نہیں۔وہ لڑکا شور مچا نے لگ گیا۔یہ