تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 435 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 435

عدل رکھا کہ اب وہ عدل پر زیادہ زور دینے لگے ہیں۔اسی طرح پہلی آیت میںلَا يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌاور دوسری میں لَا يُقْبَلُ مِنْهَا عَدْلٌ ہے۔اس کی وجہ بھی یہ ہے کہ قبولیت اَخَذ سے اعلیٰ لفظ ہے اور اپنے اندر اعزاز کا ایک رنگ رکھتا ہے۔جیسے کہتے ہیں بادشاہ نے فلاں چیز قبول کرلی۔یہ کبھی نہیں کہتے کہ فقیر نے بادشاہ کی عطا کردہ چیز قبول کر لی لیکن اخذ میں یہ بات نہیں ہوتی۔اخذ جس کے معنے لینا ہے ادنیٰ چیز اعلیٰ کے بدلہ میں لینے یا اعلیٰ چیز ادنیٰ کے بدلہ میں لینے یا ایک ہی جیسی قیمت رکھنے والی چیزیں ایک دوسرے سے لینے کے لئے استعمال ہوتا ہے جب تک یہود کی اُمیدقائم تھی اور اُن کے عیوب گنائے نہیں گئے تھے۔یہ فرمایا کہ اُن سے عدل نہیں لیا جائے گا۔اور ’’لیا جائے گا‘‘ کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ خود لینے والا لے لے۔اور اس طرح حساب پورا کر لے۔لیکن لَا یُقْبَلُ سے یہ مراد ہوتی ہے کہ دینے والا خود اصرار سے دیتا ہے لیکن پھر بھی نہیں لیا جاتا۔اور یہ بات مایوسی کی حالت میں پیدا ہوتی ہے پس یہ تبدیلی بھی پند رھویں ۵۱ رکوع میں موقع کے لحاظ سے کی گئی ہے۔اور بتایا گیا ہے کہ وہ تو مایوسی کی حالت میں چاہیں گے کہ معاوضہ لے لیا جائے مگر معاوضہ قبول نہیں کیا جائے گا۔تیسری تبدیلی یہ ہے کہ پہلی آیت میں شفاعت کے لئے لَا یُقْبَلُ آیا تھا اور کہا گیا تھا کہ لَا یُقْبَلُ مِنْھَا شَفَاعَۃٌ لیکن دوسری آیت میں لَا تَنْفَعُھَاشَفَاعَۃٌ آیا ہے۔یہ تبدیلی بھی موقع کے لحاظ سے ضروری تھی۔جب تک یہود کے عیوب بیان نہیں کئے گئے تھے وہ اُمید کر سکتے تھے کہ ہم انبیاء کی سفارش پیش کرینگے اور وہ قبول ہو جائیگی۔اس خیال کے مناسب حال یہ جواب دیا کہ شفاعت قبول نہیں کی جائے گی لیکن بعد کے رکوعوں میں جب انبیاء کی مخالفتیں اور یہود کے دوسرے عیوب گِنائے گئے تو یہود کی یہ اُمید منقطع ہو گئی کہ ہم خود شفاعت پیش کر سکیں گے۔لیکن یہ امید اب بھی ہو سکتی تھی کہ شاید انبیاء ہی رحم کر کے ہماری شفاعت کر دیں۔اس لئے پندرھویں رکوع میں وَلَا تَنْفَعُھَا شَفَاعَۃٌکہا گیا۔جس کے معنے یہ ہیں کہ سفارش کرنے والوں کی سفارش سے اور لوگ تو فائدہ اُٹھائیں گے مگر ان کے حق میں کوئی شفاعت کی ہی نہیں جائیگی کہ یہ اس سے فائدہ اُٹھاسکیں۔لَا تَنْفَعُھَا سے یہ مراد نہیں کہ شفاعت تو ہو گی مگر مانی نہیں جائے گی بلکہ مراد یہ ہے کہ اُن کے حق میں کوئی از خود بھی شفاعت نہیں کریگا آخر شفاعت تو اِذْن سے ہوتی ہے بغیر اِذْ ن کے کون شفاعت کرسکتاہے۔پس جب اِذْن نہ ہو گا تو شفاعت بھی نہیں ہو گی۔اور جب شفاعت نہ ہو گی تو اس رحمت کے دروازے سے بھی وہ فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔غرض یہ سب تبدیلیاں بالکل موقعہ کے مناسب ہیں اور قرآنی ترتیب کے کمال کی ایک زبردست شاہد ہیں۔