تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 433
وَ الْكٰفِرُوْنَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَمیںبتا یا کہ یہ ظلم نہیں بلکہ ظلم کفار نے خود اپنی جا نوں پر کیا ہے۔اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ اَلْحَيُّ الْقَيُّوْمُ١ۚ۬ لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّ اللہ وہ (ذات) ہے جس کے سوا پرستش کا( اور) کوئی مستحق نہیں۔کامل حیات والا( اپنی ذات میں) قائم (اور سب کو) لَا نَوْمٌ١ؕ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ١ؕ مَنْ قائم رکھنے والا۔نہ اسے اونگھ آتی ہے اور نہ نیند( کاوہ محتاج ہے)۔جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ ( سب) اسی کا ہے۔کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے حضور میں سفارش کرے۔جو کچھ ان کے سامنے ہے اَيْدِيْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ١ۚ وَ لَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے وہ( سب ہی کچھ )جانتا ہے۔اور وہ اس کی مرضی کے سوا اس کے علم کے عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ١ۚ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ١ۚ کسی حصہ کو (بھی)پا نہیں سکتے۔اس کا علم آسمانوں پر( بھی) اور زمین پر (بھی )حاوی ہے۔وَ لَا يَـُٔوْدُهٗ حِفْظُهُمَا١ۚ وَ هُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ۰۰۲۵۶ اور ان کی حفاظت اسے تھکاتی نہیں۔اور وہ بلند شان(رکھنے) والا (اور )عظمت والا ہے۔حلّ لُغات۔اَلْحَیُّ کامل حیات والا۔اللہ تعالیٰ کے لئے جب اَلْحَيُّ آ تا ہے تو الف لام کمال کے معنے دیتا ہے اور اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ حیاتِ کاملہ رکھتا ہے یعنی ایسی حیات جو اپنے قیام میں کسی اور کی محتاج نہیں۔اسے کسی اور نے زندگی نہیں بخشی بلکہ اس کی ذات ازلی اور ابدی طور پر زندہ ہے۔اَلْقَیُّوْمُ قَامَ سے نکلا ہے جس کے معنے کھڑے ہو نے کے ہیں۔اسی سے قَیِّمٌ نکلا ہے جس کے معنے نگران اور متولّی کے ہیں اور قَیِّمٌ مُسْتَقِیْمٌ کو بھی کہتے ہیں۔اَمْرٌ قَیِّمٌ ایسا امر جس میں کوئی کجی نہ ہو بلکہ درست اور ٹھیک ہو۔