تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 432
کہ کسی جان کو اس کے کمائے ہوئے کے سبب سے اس طرح ہلاکت میں ڈال دیا جائے کہ خدا تعالیٰ کے سوا اس کا نہ کوئی مددگار ہو اور نہ شفیع۔اور اگر وہ ہر ایک قسم کا بدلہ بھی دیں۔تو ان سے قبول نہیں کیا جائے گا۔ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا میں خدا تعالیٰ کو ولی اور شفیع بنانےوالوں کو تو اس دن شفاعت کا حق پہنچےگالیکن دوسروں کو نہیں اور نہ ان کے حق میں شفاعت قبول ہو گی۔خدا تعالیٰ کو شفیع اس لئے قرار دیا کہ اس کی اجازت کے بغیر شفاعت نہیں ہو سکتی پس اصل شفیع وہی ہے فرما تا ہےيَوْمَىِٕذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ رَضِيَ لَهٗ قَوْلًا(طٰہٰ: ۱۱۰) یعنی اس دن شفا عت سوائے اس کے جس کے حق میں شفاعت کر نےکی اجا زت رحمٰن خدا دےگا اور جس کے حق میں بات کہنے کو وہ پسند کرےگا اور کسی کو نفع نہیں دےگی۔اس سے ثابت ہو تا ہے کہ وہاں شفاعت بالا ذن ہو گی۔خدا تعالیٰ کو شفیع بنانے والوں کو تو شفاعت کا حق پہنچے گا لیکن اور کسی کو خدا تعالیٰ کے اِذن کے بغیر شفاعت کا حق نہیں ہوگا۔دوسری جگہ فر ما تا ہے۔يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا يَشْفَعُوْنَ١ۙ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰى وَ هُمْ مِّنْ خَشْيَتِهٖ مُشْفِقُوْنَ(الانبیاء: ۲۹) یعنی خدا تعالیٰ اس کو بھی جا نتا ہے جو انہیں آ ئندہ پیش آنےوالا ہے اور جو وہ پیچھے چھوڑ آئے ہیں اور وہ سوائے اس کے جس کے لئے خدا نے یہ بات پسند کی ہو کسی کےلئے شفاعت نہیں کر تے اور وہ اس کے خوف سے لرزتے رہتے ہیں۔پھر اس آ یت سے اگلی آ یت میں فر ماتا ہے مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ(البقرہ: ۲۵۶) یعنی کون ہے جو اس کی اجا زت کے بغیر اس کے حضور کسی کی سفارش کرے۔بیشک حد یثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ قیا مت کے دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور انبیاء سا بقین کے علاوہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض امتی بھی شفاعت کر یںگے(ابن ماجہ کتاب الزھد باب ذکر الشفاعۃ)۔لیکن ان حدیثوں کے بارے میں میری تشریح یہ ہے کہ امت محمدیہ میں سے ایسے افراد کی شفاعت صرف ظلّی ہو گی اصل شفیع آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہوںگے۔وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سفا رش کریںگے اور آپ اللہ تعالیٰ سے۔با نی سِلسلہ احمد یہ نے بھی اسی عقیدہ کی تو ضیح فر ما ئی ہے آپ اپنی کتاب ’’کشتی توح‘‘ میں فر ما تے ہیں۔’’ نوع انسان کےلئے روئے زمین پر اب کوئی رسول اور شفیع نہیں مگر محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم۔سو تم کو شش کرو کہ سچی محبت اس جا ہ و جلال کے نبی کے ساتھ رکھو اور اس کے غیر کو اس پر کسی نوع کی بڑائی مت دو تا آ سمان پر تم نجا ت یا فتہ لکھے جاؤ۔‘‘ (کشتی نوح ،روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۱۵،۱۶) بہر حال جب تک کو ئی انسان اللہ اور اس کے رسول سے و اصل نہ ہو جائے اور ان کو اپنا جوڑا نہ بنا لے اس وقت تک اسے کسی قسم کی شفاعت میسر نہیں آئےگی۔