تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 423
روایت سے بھی تائید ہو تی ہے۔براء بن عازبؓ بیا ن کر تے ہیں کہ کُنَّا اَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلّمَ نَتَحَدَّثُ اَنَّ عِدَّۃَ اَصْحَابِ بَدْرٍعَلٰی عِدَّۃِ اَصْحَا بِ طَا لُوْتَ الَّذِیْنَ جَا وَزُوْامَعَہُ النَّھْرَوَلَمْ یُجَا وِزْ مَعَہٗ اِلَّا مُؤْمِنٌ بِضْعَۃُعَشَرَوَثَلاَثُ مِا ئَۃٍ۔یعنی ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب ایک دوسرے سے باتیں کیا کرتے تھے۔کہ بدر والوں کی تعداد طالوت کے ساتھیوں کی تعداد کے مطا بق تھی جو اس کے ساتھ نہر سے گزرے تھے اور ان کے ساتھ تین سو دس سے کچھ اوپر مو من تھے۔(بخاری کتاب المغازی باب عدۃ اصحاب بدر) اس جگہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن کریم میں تو اس کا نام طالوت آ یا ہے اور بائیبل کے حوالہ میں جد عون نام آ یا ہے۔ان میں مطا بقت کس طرح ہے؟ سو پہلے میں جدعون کو لیتا ہوں۔یہ عجیب بات ہے کہ جدعون کے لفظ کے بھی وہی معنے ہیں جو عربی زبان میں طالوت کے ہیں۔جدعون کے معنے عبرانی زبان میں کاٹ کر نیچے گرا دینے کے ہیں یا تراشنے یا کلہاڑے سے کاٹ دینے کے ہیں۔پس جد عون ایسے شخص کو کہتے ہیں جو اپنے مخالف کو کاٹ ڈالتا اور زمین پر گرا دیتا ہے۔بائیبل میں جدعون کو زبر دست سورما اور بہادر پہلوان کے نام سے پکارا گیا ہے۔(دیکھو قضاۃ باب ۶ آ یت۱۱) اور طا لوت جو جدعون کا صفاتی نام ہے اس کے بھی یہی معنے ہیں کیو نکہ طَالَ کے معنے دوسروں سے بلند اور بڑائی والا ہو جا نے کے ہیں۔پس طا لوت کے معنے ہیں جو دوسرے سے درجہ اوربڑائی میں اونچا ہو گیا تھا اور دوسروں کو اس نے نیچا کر دیاتھا۔گو یا اس نام میں بتا یا گیا ہے کہ پہلے تو وہ ادنیٰ اور معمولی درجہ کا آ دمی تھا مگر پھر بڑا ہوگیا اور خدا تعالیٰ نے اس کو اونچا کر دیا۔اور اس قسم کے صفا تی نام قرآن کریم میں بعض اور جگہ بھی استعمال ہوئےہیں۔مثلاًاللہ تعالیٰ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت فر ما تاے۔وَ اَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ يَدْعُوْهُ كَادُوْا يَكُوْنُوْنَ عَلَيْهِ لِبَدًا(الجن : ۲۰) یعنی جب اللہ تعالیٰ کا بندہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف بلا نے کے لئے کھڑا ہو تا ہے تو مکہ کے لوگ اس پر جھپٹ کر آ گر تے ہیں۔اس جگہ عبد اللہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا صفاتی نام بیان کیا گیا ہےحالانکہ آپ ؐ کا نام محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) تھاپس جس طرح عبداللہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا صفاتی نام ہے۔اسی طرح طالوت بھی جد عون کا صفا تی نام ہے اور دونوں ہم معنی الفا ظ ہیں۔اب صرف جا لوت کالفظ تحقیق طلب رہ گیا۔سو یاد رکھنا چا ہیے کہ جالوت بھی ایک صفا تی نام ہے جو کسی ایک شخص کا نہیں بلکہ ایک گر وہ کا نام ہے جس کا کام ملک میں فساد کر نا اور ڈاکے ڈالنا تھا۔جا لوت کوانگریزی زبان میں گو لیتھ کہتے ہیں۔اور گو لیتھ کے معنے انگر یزی میں۔Destroyers Spirits Sunning Ravaging