تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 422
کہ مدیا نیوں کے ہاتھ سےا نہیں بچاوے۔سو خدا وند کا فرشتہ اسے دکھائی دیا اور اس سے کہا کہ خدا وند تیرے ساتھ ہے۔اے بہا در پہلوان! جدعون نے اسے کہا۔اے ما لک میرے! اگر خدا وند ہمارے ساتھ ہے تو ہم پریہ سب حا دثےکیوں پڑے اور کہاں ہیں اس کی وے سب قدرتیں جو ہمارے باپ دادوں نے ہم سے بیان کیں۔اورکہا کیا خدا وند ہم کو مصر سے نہیں نکال لایا۔لیکن اب خداوند نے ہم کو چھوڑدیا۔تب خدا وند نے اس پر نگاہ کی اور کہا کہ اپنی اس قوت کے ساتھ جاکہ تو بنی اسرا ئیل کو مدیا نیوں کے ہاتھ سے رہا ئی دےگا۔کیا میں تجھے نہیں بھیجتا اور اس نے اسے کہا۔اے میرے مالک! میں کس طرح بنی اسرائیل کو بچا ؤں۔دیکھ کہ میرا گھرانا منسّی میں حقیر ہے اور میں اپنے باپ دادوں کے گھرانے میں سب سے چھوٹا ہوں تب خدا وند نے اسے فر مایا کہ میں تیرے ساتھ ہوںگا۔اور تو مدیانیوں کو ایک ہی آ دمی کی طرح مارلےگا۔‘‘ (قضاۃباب۶آیت۱۱تا ۱۶) قر آن کر یم میں بھی جُنُوْد کا لفظ آ تا ہے اور با ئیبل بھی بتا تی ہے کہ وہاں مدیا نی۔عمالیقی اور مشرقی تین قو میں موجود تھیں۔پھرلکھا ہے۔’’ تب خدا وند نے جد عون کو فر ما یا کہ لوگ ہنوز زیادہ ہیں۔سو تو انہیں پا نی پاس نیچے لا کہ وہاں میں تیری خا طر انہیں آ زماؤںگا۔‘‘ (قضا ۃ باب ۷ آیت ۴) ’’ سو وہ ان لو گوں کو پا نی پاس نیچے لایا۔اور خداوند نے جدعون کو فر مایا کہ جو شخص پا نی چپڑ چپڑکر کے کتّے کی ما نند پیوے تو ہر ایک ایسے کو علیحدہ رکھ۔اورویسے ہر ایک کو بھی جو اپنے گھٹنوں پر جھک کے پیوے۔سو جنہوں نے اپنا ہاتھ اپنے منہ کے پاس لا کے چپڑ چپڑ کر کے پیا۔وہ گنتی میں تین سو مرد تھے۔۔۔۔تب خداوند نے جدعون کو کہا کہ میں ان تین سو آ دمیوں سے جنہوں نے چپڑ چپڑ کر کے پیا تجھے رہائی بخشوںگا۔اور مدیانیوں کو تیرے ہاتھ میں کردوںگا۔اور باقی سب لو گوں میں ہر ایک کو اس کے مکان پرپھر جانے دو۔تب ان لو گوں نے اپنا تو شہ اور اپنے نر سنگے ہاتھوں میں اٹھا ئے اور با قی سب بنی اسرائیل میں سے ہر ایک کو اس کے خیمے میں بھیجا اور ان تین سو کو اپنے پاس رکھا۔اور مدیانیوں کا لشکر اس کے نیچے وادی میں تھا۔‘‘ (قضا ۃ باب ۷آیت ۵تا ۸) آ خر میں مد یا نیوں سے نجات پا نے کا ذکر ہے۔اور وہ اس طرح کہ جدعون کے ساتھ تین سو آدمی رہ گئے جن کو ساتھ لے کر وہ لڑا اور فتح حاصل کی۔یہ سارا واقعہ قرآن کریم سے حرف بحرف ملتا ہے۔اور اس کی بخاری کی ایک