تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 411
آ ئیں تا کہ وہ ہمارے درمیان ہو کے ہم کو ہمارے دشمنوں کے ہاتھوں سے رہا ئی دیوے۔سو انہوں نے سیلا میں لو گ بھیجے تا کہ وہ ربُّ الا فواج کے عہد کے صندوق کو جو کر وبیوں کے درمیا ن دھرارہتا ہے وہاں سے لے آویں اور عیلی کے دونوں بیٹے حُفنیؔ اور فینحاںؔ خدا کے عہد کے صندوق پا س وہاں حاضر تھے۔اور جب خدا وند کے عہد کا صندوق لشکر گاہ میں آ پہنچا۔تو اسرائیلی خوب للکارے۔ایسا کہ زمین لرز گئی اور فلستیوں نے جو للکارنے کی آ واز سنی تو بو لے کہ ان عبرا نیوں کی لشکر گاہ میں کیسی للکارنے کی آ واز ہے۔پھر انہوں نے معلوم کر لیا کہ خدا وند کا صندوق لشکر گاہ میں آ پہنچا۔سو فلستی ڈر گئے کہ انہوں نے کہا۔خدا لشکر گاہ میں آ یا ہے۔اور بولے ہم پر وا ویلا ہے اس لئے کہ اس سے پہلے ایسا کبھی نہ ہوا۔ہم پر واویلا ہے۔ایسے خدا ئے قادر کے ہاتھ سے ہمیں کون بچائےگا۔یہ وہ خدا ہے جس نے مصریوں کو میدان میں ہر ایک قسم کی بلا سے مارا۔اے فلستیو! تم مضبوط ہو اور مردانگی کرو۔تا کہ تم عبرانیوں کے بندے نہ بنو جیسے کہ وے تمہارے بندے بنے بلکہ مرد کی طرح بہادری کرو اور لڑو۔سو فلستی لڑے اور بنی اسرائیل نے شکست کھائی اور ہر ایک اپنے اپنے خیمے کو بھا گا۔اور وہاں نہا یت بڑی خونر یزی ہوئی کہ تیس ہزار اسرائیلی پیا دے مارے پڑے۔اور خدا کا صندوق لُو ٹا گیا۔‘‘ ( ا۔سموئیل باب ۴آیت ۳ تا ۱۱) سو اگر تو یہاں تا بوت سے مراد وہی تا بوت ہو تو وہ ان کے لئے کسی خوشی کا موجب نہیں ہو سکتا تھا۔اور نہ ہی اس سے ان کو کوئی تسلّی ہو سکتی تھی کیو نکہ اس کی مو جو دگی میں وہ شکست کھا چکے تھےحا لا نکہ اس سے پہلے ان کو تا بوت پر اس قدر یقین تھا کہ جب ان کے سب سے بڑے کا ہن کو معلوم ہوا کہ تا بوت دشمنوں کے ہاتھوں میں چلا گیا ہے تو وہ گر پڑا اور وہیں مر گیا۔لیکن قرآن کر یم نے جس تا بوت کا ذکر کیاہے اس کے متعلق کہا ہے کہ وہ ان کے لئے تسکین کا مو جب ہو گا۔پس یہ تا بوت وہ نہیں ہو سکتا۔بلکہ اس تا بوت سے یقیناً کچھ اور مراد ہے اس غرض کے لئے جب ہم لغت کو دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہو تا ہے کہ تا بوت کے عام معنے تو صندوق کے اور کشتی کے ہو تے ہیں(تاج العروس) لیکن استعارۃً اُسے دل کے معنے میں بھی استعمال کیاجاتا ہے۔جس کی تائید اس امر سے ہو تی ہے کہ عربی زبان میں انسانی قلب کو بَیْتُ الْحِکْمَۃِ اور وِعَاءُ الْحِکْمَۃِ اور صَنْدُوْقُ الْحِکْمَۃِ کہنے کے علا وہ تَا بُوْتُ الْحِکْمَۃِ بھی کہتے ہیں(مفردات راغب) اسی طرح لسان العرب کا یہ حوالہ بھی اس کی تا ئید کر تا ہے کہ مَا اَوْدَعْتُ شَیْئًا تَا بُوْتِیْ فَقَدْ تُہٗ مَیں نے اپنے تا بوت یعنی دل میںکوئی ایسی بات نہیں رکھی کہ بعد میں اسے گم کر دیا ہو۔یعنی مَیں مستقل مزاج