تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 403 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 403

کی حالتیں انسا ن کے ساتھ لا زم کر دی گئی ہیں کبھی اس کے اندر بسط کی لہر پیدا ہوتی ہے اور وہ دین کے لئے سب کچھ قربان کر نے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ حساب کر نے بیٹھ جاتا ہے کہ میں کتنی قربا نی کر سکتا ہوں۔یہ حسا ب کر نےوالی حالت قبض کی حالت ہو تی ہے اور جب کو ئی شخص سب کچھ دینے کے لئے تیار ہو جا تا ہے اور اس میں خوشی محسوس کرتا ہے تو وہ بسط کی حا لت ہوتی ہے۔پس فرمایا کہ تم دونوں حا لتوں میں خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے اموال خرچ کرو۔کیو نکہ تنگی بھی عا رضی چیز ہے اور فراخی بھی عا رضی۔اور چو نکہ سوال ہو سکتا تھا کہ اگر خدا تعالیٰ کے پاس ہما را مال بڑھتا رہتا ہے تو اس کا ہمیں کیا فا ئدہ ؟ اس لئے فر ما یا کہ وَ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ۔اصل گھر توتمہارا وہی ہے۔پس جو کچھ تم ہما رے پاس بھیجتے ہو ہم اسے بڑھا تے رہتے ہیں۔جب تم آ ؤ گے تو خدا تعالیٰ نے تمہارا مال بہت بڑھا رکھا ہو گا۔اور وہ تمہیںمل جائےگا۔جیسے کو ئی ملا زم با ہر جاتا ہے تو روپیہ اپنے گھر بھیجتا رہتا ہے اور اس کی بیوی اسے جمع کر تی رہتی ہے۔مگر خدا تعالیٰ صرف جمع ہی نہیں کرتا بلکہ اسے بڑھا تا بھی رہتا ہے۔پس اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَمیں بتا یا کہ آ خر ایک دن تم نے خدا کی طرف لوٹنا ہے۔جہاں ایک دائمی زندگی تمہارا انتظار کر رہی ہے۔پس عا رضی چیزوںکی وجہ سے اپنی دائمی زندگی کو نقصان مت پہنچاؤ اور جس قدر بھی نیکی میں حصہ لے سکتے ہو لو۔قرآن کر یم کا کمال دیکھو کہ اس میںا نفس اور اموال کی تر تیب کیسے عجیب طور پر رکھی گئی ہے۔چو نکہ جنگ میںسب سے پہلے سپا ہی کاوجو د ضروری ہو تا ہے جو قوم اور ملّت کے لئے اپنی جا ن کی با زی لگا دیتا ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے قَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ کا حکم دے کر مومنوں سے ان کی جان کا مطا لبہ کیا۔اس کے بعد دوسرا سوال خزانہ کی مضبوطی کا ہو تا ہے کیو نکہ جب کوئی قوم میدانِ جہا د میں نکلتی ہے تو ملک کے خزانہ پر جنگی اخراجات کا غیر معمولی بار پڑ جاتا ہے اور اس کمی کو پورا کر نا ضروری ہوتا ہے ورنہ جنگ زیا دہ دیر تک نہیں لڑی جا سکتی۔اسی حکمت کے ما تحت اللہ تعالیٰ نے دوسرے نمبر پر مالی قربانیوں کی تحریک فر مادی اور اس طرح قومی اور مذہبی استحکام کے لئے جان اور مال کی قر با نیوں کو ایک بنیادی حیثیت دے کر ان کی طبعی تر تیب بھی قا ئم کر دی کہ پہلا درجہ جا نی قربانیوں کا ہے اور دوسرا درجہ مالی قربانیوں کا۔