تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 402
ضِعَافًا آنا چا ہیے تھا(تفسیر مظہری زیر آیت ھذا)۔اس کا بعض نے یہ جواب دیاہے کہ چو نکہ تعددّ انوا ع کی طرف اشارہ کر نا مدّنظر تھا۔اس لئے اَضْعَافًا رکھا گیا ہے، ضِعَا فًاسے تو صرف یہی مرا د ہو سکتا تھا کہ وہ اُسے کئی گنُے بڑھائےگا۔مگر اَضْعَا فًامیں اس با ت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ بڑھائےگا بھی اور یہ زیادتی کئی قسم کی ہو گی۔پس تعداد انواع کے اظہار کے لئے ضِعَافًا کی بجا ئے اَضْعَا فًا جمع لا ئی گئی ہے۔وَ اللّٰهُ يَقْبِضُ وَ يَبْصُۜطُ میں ایک تو اس امر کی طرف اشارہ کیا ہے کہ جس طرح تمہارے دوسرے بھائیوں پر مصیبت آ ئی ہے اسی طرح تم پر بھی آ سکتی ہے۔کیو نکہ تنگی اور کشائش کے دور بدلتے رہتے ہیں اس لئے ان کی مدد کرنا تمہارا اوّلین فرض ہے۔دوسرے اللہ تعالیٰ نے ان الفا ظ میں پہلے جملہ کی مزید تشریح کر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ کےقرض لینے کا کیا مطلب ہے۔فر ما یا۔اللہ تعالیٰ کی یہ سنّت ہے کہ وہ پہلے اپنے بندوںکا مال لیتا ہے اور پھر اُس کو بڑھا تا اور ترقی دیتا ہے۔پس جب تک بندہ قربا نی نہ کر ے اس وقت تک خدا تعالیٰ کا وہ خا ص فضل بھی نا زل نہیں ہوتا جس کی طرف يَبْصُۜطُکا لفظ اشارہ کر رہا ہے۔یَقْبِضُ وَيَبْصُۜطُ کے ایک معنے یہ بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ وہ تنگی بھی لاتا ہے اور کشائش بھی پیدا کر تا ہے اور جب دونوں اس کے اختیار میں ہیں تو پھر جو بھی اس کے احکا م پر چلے گا اُس کے لئے وہ بسط پیدا کر ےگا اور جو اس کی نافرمانی کر ے گا اس کےلئے وہ قبض یعنی عذاب کی صورت پیدا کر دےگا۔اسی طرح اس کے ایک یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ دنیا میں انسان کی دو ہی حالتیں ہو تی ہیں یا تو قبض کی حا لت ہوتی ہے یا بسط کی۔چنانچہ رسول کر یم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں ایک دفعہ ایک صحا بیؓ حا ضر ہوئے۔اور انہوں نے کہا۔یا رسول اللہ! میں تو منافق ہوں۔رسول کر یم صلی اللہ علیہ و سلم نے فر مایا۔تم تو مومن ہو تم اپنے آ پ کو منا فق کیوںسمجھتے ہو؟ اس صحا بی ؓ نے کہا یا رسول اللہ ! میں جب تک آپ کی مجلس میں بیٹھارہتا ہوں یوں معلوم ہوتا ہے کہ دوزخ اور جنت میرے سا منے ہیں۔اور خشیت الٰہی کا زور ہو تا ہے لیکن جب میں اپنے گھر جاتا ہوں تو وہ حالت قائم نہیں رہتی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فر مایا۔یہی توخالص ایمان ہے۔پھر آ پؐ نے فرمایا۔اگر انسا ن ایک ہی حالت پر رہے تو وہ مر نہ جائے۔غرض قبض و بسط دونوں حالتیں انسا ن پر آ تی رہتی ہیں اگر انسا ن کی ہر وقت ایک قسم کی حالت رہے تو اگر جسما نی طور پر نہیں تو دماغی طور پر وہ یقینًا مرجائےگا اور پا گل ہو جائےگا۔مجنونوں اور عقل مندوں میں یہی فر ق ہوتا ہے کہ مجنو ن پر ایک ہی حالت ہمیشہ طاری رہتی ہے۔اور عقلمندوں پر اتار چڑھا ؤ آ تا رہتا ہے۔مجنون ایک ہی قسم کے خیا لات میں مبتلا رہتا ہے لیکن عقل مند شخص کے خیا لات ایک قسم کے نہیں رہتے۔غرض قبض وبسط