تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 382
میر ے نزدیک حٰفِظُوْا میںایک اور امر کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔حٰفِظُوْا باب مفا علہ سے ہے جس میں اشتراک پا یا جا تا ہے۔پس اس میں خدا تعالیٰ نے مر د و عورت دونو ں کو یہ نصیحت کی ہے کہ اب نکا ح کے بعد تم آپس میں میاں بیوی بن گئے ہو۔تم دونوں مل کر نما زوں کے متعلق ایک دوسرے کی نگرانی کر و۔خصوصاً نما ز وسطیٰ یعنی تہجد کے متعلق۔چنا نچہ حدیث میں آ تا ہے کہ اگر تہجد کے نما ز کے لئے خا وند کی آ نکھ کھلے تو بیوی کو جگا دے اور اگر وہ نہ اٹھے تو پا نی کا ایک ہلکا سا چھینٹا اس کے منہ پر مارے۔اور اگر بیوی کی آ نکھ کھلے تو وہ میاں کو جگا دے اور اگر وہ نہ اُٹھے تو وہ بھی پا نی کاایک ہلکا سا چھینٹا اس کے منہ پر مارے(مشکوٰۃ کتاب الصلوٰۃ باب التحریض علی قیام اللیل)۔جب تہجد کی نما ز کے لئے رسول کر یم صلی اللہ علیہ و سلم نے اس قدر تا کید فر ما ئی ہے تو اور نما زوں کی نگہداشت کا حکم خود بخود وا ضح ہو گیا۔پس گو محا فظت کے معنے عا م طور پر نگرا نی کے ہو تے ہیں مگر دراصل اس میں وہ خا صہ ملحوظ ہے جو باب مفا علہ کا ہے اور جس کی رو سے اس کا یہ مطلب ہے کہ دونوں ایک دوسرے کی نگرا نی کریں۔اور عبا دت میں ایک دوسرے کے لئے تر قی کا مو جب بنیں۔قُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِيْنَ کے معنے یہ ہیں کہ نما ز میں تمہارا خیال کسی اور طرف نہ ہو بلکہ پورے خلو ص اور اطا عت اور تبتل تا م کے سا تھ اللہ تعالیٰ کی عبا دت کرو۔اس حکم کے نازل ہو نے سے پہلے صحا بہ ؓ بعض دفعہ نما ز میں آپس میں بات چیت بھی کر لیا کر تے تھے مگر پھر اس حکم کے نتیجہ میں انہو ں نے خا موشی اختیار کر لی۔(ترمذی کتاب التفسیر باب ومن سورۃ البقرۃ) فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا اَوْ رُكْبَانًا١ۚ فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْ فَاذْكُرُوا اور اگر تمہیں خوف ہو تو پیدل یا سوار ہو نے کی حالت میں (ہی نماز پڑھ لو) پھر جب تمہیں امن حاصل ہو جائے تو اللہ اللّٰهَ كَمَا عَلَّمَكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ۰۰۲۴۰ کویاد کرو کیونکہ اس نے تمہیں (وہ کچھ )سکھایا ہے جو تم (پہلے )نہ جانتے تھے۔تفسیر۔اس آ یت میں نما ز کی اہمیت پر زیا دہ زور دینے کےلئے فر مایا میاں بیوی کے تعلقات کیا چیز ہیں؟ اگر تمہا رے پیچھے تمہیں پکڑ نے کیلئے کو ئی دشمن آ رہا ہو اور تم بھا گ رہے ہو تو خواہ تم سوار ہو یا پیا دہ تو بھی تم نما ز کو نہ چھو ڑو بلکہ اسی حا لت میں ہی پڑھ لو۔گو یا نماز میں غفلت اور سستی کسی صورت میں بھی جا ئز نہیں۔حتیّ کہ سخت