تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 381 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 381

ہونا۔اَلدُّعَاءُ دُعا۔اَلْخُشُوْعُ وَخَفْضُ الْجَنَاحِ وَسَکُوْنُ اْلاَطْرَافِ وَ تَرْکُ الْاِلْتِفَاتِ مِنْ رَھَبِ اللّٰہِ۔اللہ تعالیٰ کے خوف سے کامل عجزوانکساراور ادب اور سکون اور ماسوی اللہ کو بھُلا کر کام کرنا۔(اقرب) تفسیر۔شادی بیاہ کے ذکر کے سلسلہ میں اب اللہ تعالیٰ نمازوںکا ذکر فرماتا ہے کیونکہ بالعموم شادی کی وجہ سے لوگ نمازوں میں بہت کچھ سُست ہو جاتے ہیں وہ اوّل تو رات کو زیادہ دیر بیدار رہتے ہیں جس کی وجہ سے تہجداور فجر کی باجماعت نمازمیں ان سے غفلت ہو جاتی ہے۔اور پھر دن کو بھی گھریلو مصروفیات انہیں نمازوںکی طرف توجہ کرنے نہیں دیتیں۔پس چونکہ شادی کے سِلسلہ میں عبادت میں بہت کچھ نقص واقع ہو جاتا ہے کیونکہ انسان کے مشاغل بڑھ جاتے ہیںکیا بلحاظ آپس کے تعلقات کے اور کیا بلحاظ بچوں کی دیکھ بھال کے اور کیا بلحاظ سامانِ خوردونوش وغیرہ مہیّا کرنے کے اِسی طرح طہارت کے نقائص بھی پیدا ہو جاتے ہیں اس لئے فرمایا کہ تمہاری گھریلو مصروفیات بے شک بڑھ جا ئیںگی۔تمہیں روزی کمانے کے لئے پہلے سے زیادہ تگ و دَو کرنی پڑےگی اور تمہاری توجہ میں یکسوئی نہیں رہے گی۔مگر دیکھنا تم نمازوں میں سُستی نہ کرنا خصوصاً نماز وسطیٰ کا ہمیشہ خیال رکھنا۔یہ نمازوسطیٰ کونسی ہے؟ اس کے متعلق لوگوں میں بہت کچھ اختلاف پاتا جاتا ہے۔(۱) بعض نے اسے تہجد کی نماز قرار دیا ہے اور میرا خیال بھی نماز تہجدکی طرف ہی جاتا ہے۔جو شام اور صبح کے درمیان آتی ہے۔(۲) بعض کہتے ہیںکہ صلوٰۃوسطیٰ سے وہ نماز مراد ہے۔جو کام کے درمیان آجائے(کشاف و بحر محیط زیر آیت ھذا)۔اِس کے علاوہ بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ و سلم نے عصرکی نمازکوبھی صلوٰۃ وسطیٰ قراردیا ہے۔چنانچہ ترمذی اور بخاری میں سمرۃؓ سے روایت آتی ہے کہ جنگِ احزاب میں جب کفار نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو عصر کی نماز سے روکاتو آپ نے فرمایا۔خدا ان کے گھروں اور ان کی قبروں کو آگ سے بھرے انہوں نے ہمیں صلوٰۃ وسطیٰ سے روک دیا ہے۔(ترمذی کتاب التفسیر باب ومن سورۃ البقرۃ وبخاری کتاب التفسیر باب حفظوا علی الصلوات زیر آیت ھذا) مگر میرے نزدیک اِن حدیثوں سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ صلوٰۃ وسطیٰ سے وہی نماز مراد ہے جو کام کے درمیان آجائے کیونکہ جنگِ احزاب میں بھی عصر کی نماز دوران جنگ میں آگئی تھی۔اور ممکن ہے اسی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے صلوٰۃوسطیٰ قرار دیا ہو۔وسطیٰ کے معنے افضل واعلیٰ کے بھی ہوتے ہیں(کشاف زیر آیت ھذا)۔اس لئے جس نماز کو انسان زیادہ مشاغل ترک کر کے پڑھے وہی نماز اس کے لئے صلوٰۃوسطیٰ ہو گی اور اُس کے لئے زیادہ برکات اور انوار کی حامل ہوگی۔اس مفہوم کو مدّ نظر رکھتے ہوئے اوپر کے معنوں کی تائید ہوتی ہے۔