تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 363 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 363

وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰيٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا١ٞ وَّ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ احکام کو محل تمسخر نہ بناؤ۔اور تم پر جو اللہ کا انعام ہوا ہے (اس کو )یاد رکھو۔اور( اسے بھی یاد رکھو )جو اس نے اتاراہے وَ مَاۤ اَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ وَ الْحِكْمَةِ يَعِظُكُمْ بِهٖ١ؕ وَ یعنی کتاب اور حکمت (کو )کہ وہ اس کے ذریعہ سے تمہیں نصیحت کرتا ہے۔اور اللہ کا تقویٰ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌؒ۰۰۲۳۲ اختیار کرو اور جان لو کہاللہ ہر ایک بات کو خوب جانتاہے۔حلّ لُغات۔ھُزُ وًا مصدر ہے اور اس کے معنے ہنسی کر نے کے ہیں۔اس آیت میں یا تو مصدر بمعنے مفعول ہے یعنی جس سے ہنسی کی جا ئے۔یا مصدر مبا لغہ کےلئے ہے کیو نکہ بعض اوقات مصدر مبا لغہ کے معنوں میں بھی استعما ل ہو تا ہے۔یا حذف مضا ف ہے۔یعنی ہنسی کا مقام (اعراب القرآن الکریم للدرویش)۔تفسیر۔اس آ یت میں طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ سے مراد طلاق رجعی ہے اور بَلَغْنَ اَجَلَھُنَّ کے دو معنے ہیں۔اوّل میعاد کے ختم ہو نے کے قریب پہنچ جا نا (۲) مدت کا ختم ہو جا نا(لسان العرب)۔اس جگہ پہلے معنے مراد ہیں اور مطلب یہ ہے کہ جب دوسری طلا ق کے بعد عدت ختم ہو نے لگے تو تمہیں رجوع کا اختیار ہے۔فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ سَرِّحُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ میں دوبا رہ اس مسئلہ پر زور دیا کہ عورتوں سے دو ہی قسم کے سلوک کر نےکا حکم ہے۔یا تو انہیں مناسب رنگ میں اپنے پا س رکھ لو۔یا منا سب رنگ میں رخصت کر دو۔یہ نہ ہو کہ تم اس نیت کے ساتھ رجو ع کر و کہ بعد میں پھر اسے دکھ دینے کا ایک موقعہ تمہا رے ہا تھ آ جائےگا۔وَ مَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ اور جو شخص عورت کو دکھ دینے کےلئے ایسا کرےگا وہ بظاہر تو اپنی بیوی کو دکھ دے رہا ہو گا لیکن درحقیقت اپنی جا ن پر ظلم کر رہا ہو گا۔اس لحا ظ سے بھی کہ اس سے تمدن میں ابتری پیدا ہو گی اور اس لحاظ سے بھی کہ وہ عورت پر ظلم کرکے اپنی شقا وت قلبی کا ثبوت لو گو ں کے لئے مہیّا کرے گا۔وَ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَ مَاۤ اَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ وَ الْحِكْمَةِ۔فر ما یا دوسری قوموں کو تو یہ تعلیم نصیب ہی نہیں ہو ئی۔تمہیں یہ پا ک تعلیم دی گئی ہے جس کی با ت بات حکمت پرمبنی ہے۔تمہا را فرض ہے کہ تم اس پر عمل کر و اوراللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاؤ کہ اس نے دوسری قوموں کی طرح تمہیں ٹھوکریں کھا نے سے بچا لیا ہے۔اگر تم نے اس