تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 362 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 362

شخص سے نکاح کر لیا مگر اس نے بھی شا دی سے قبل اسے طلاق دے دی۔اس پر اس کے پہلے خاوند نے چا ہا کہ وہ دوبارہ اس عورت سے نکا ح کر لے اور اس کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوا ل کیا گیا کہ کیا وہ اس عورت سے نکا ح کر سکتا ہے؟ آ پ نے فر ما یا نہیں۔جب تک دوسرا خا وند اس سے صحبت نہ کر ے اور پھر کسی وجہ سے اسے طلا ق نہ دےدے وہ پہلے کےلئے جا ئز نہیں ہو سکتی۔غرض دوسرے خا وند کا ہم صحبت ہونا شرط ہے اس کے بغیر وہ پہلے خاوند کے عقد میں نہیں آ سکتی۔مسلمانو ں نے اپنے تنزل کے دور میں جہا ں اور بہت سی خلافِ اسلام رسوم اپنے اندر دا خل کر لیں تھیں وہا ں انہوں نے حلالہ جیسی گندی رسم بھی اپنے اندر جا ری کرلی۔یعنی انہوں نے طلاق بتّہ کے بعد عورت کو اپنے پہلے خا وند کے نکا ح میں لانے کا یہ نرا لا ڈھنگ نکا لا کہ مطلّقہ عورت سے کسی غیر شخص کا صرف ایک رات کےلئے نکاح کر دیا جاتا اور وہ اس سے ہم صحبت ہو تا اور صبح اٹھ کر وہ اس عورت کو طلاق دےدیتا تا کہ وہ اپنے پہلے خا وند سے دوبارہ نکا ح کر سکے۔گو یا اس نکاح کا ڈھونگ صرف اس لئے رچایا جا تا کہ پہلے خا وند سے اس کا نکا ح کیا جا سکے۔مگر اسلا م اس طریق کو نا جائز قرار دیتا ہے اور حلالہ کرنے اور کر وانے وا لوں پر لعنت ڈالتا ہے۔چنا نچہ احا دیث میں آ تا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا لَعَنَ اللّٰہُ الْمُحَلِّلَ وَا لْمُحَلَّلَ لَہٗ (سنن ترمذی کتاب النکاح باب فی المحلل والمحلل لہ) یعنی اللہ تعالیٰ حلا لہ کرنےوا لے پر بھی اور جس کےلئے حلا لہ کیا گیا ہو اس پر بھی لعنت ڈا لتا ہے پس حلا لہ کی اسلا م میں کوئی جگہ نہیں اسلامی قا نون یہی ہے کہ تین طلا ق کے بعد عورت کسی اور مرد سےبا قاعدہ شا دی کر ے اور اپنی زندگی اس کے گھر میں گزارے پھر اگر کسی وجہ سے وہ بھی طلا ق دےدے یا وفات پا جا ئے تو عورت اپنے پہلے خا وند سے نئے مہر اور ولی کی رضا مندی سے دوبارہ نکا ح کرسکتی ہے۔اس کے بغیر نہیں۔وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی مقررہ مدت (کی آخری حد) کو پہنچ جائیں تو یا تو انہیں مناسب طور پر روک لو بِمَعْرُوْفٍ اَوْ سَرِّحُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ١۪ وَّ لَا تُمْسِكُوْهُنَّ یا انہیں منا سب طور پر رخصت کردو۔اور انہیں تکلیف دینے کے لئے (اس نیت سے) کہ( بعد میں پھر )ان پر ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوْا١ۚ وَ مَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ١ؕ زیادتی کرو مت روکو۔اور جو شخص ایسا کرے تو (سمجھو کہ )اس نے اپنی ہی جان پر ظلم کیا ہے۔اور تم اللہ (تعالیٰ) کے