تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 361 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 361

طلاق تک نوبت پہنچا دینا نہایت افسوس ناک امر ہے اور یہ اتنا بھیانک اور نا پسندیدہ طر یق ہے کہ ہر شریف آ دمی کو اس سے نفرت ہو نی چا ہیے۔فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا پھر اگر( اوپر کی بیان کردہ دو طلاقوں کے گزر جانے کے بعد بھی خاوند اسے تیسری) طلاق دے دے تو وہ عورت اس غَيْرَهٗ١ؕ فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَاۤ اَنْ يَّتَرَاجَعَاۤ اِنْ کے لئے جائز نہ ہوگی جب تک کہ وہ اس کے سوا( کسی) دوسرے خاوند کے پاس نہ جائے۔لیکن اگر وہ( بھی) اسے ظَنَّاۤ اَنْ يُّقِيْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ يُبَيِّنُهَا طلا ق دےدے تو ان دونوں کو بشرطیکہ انہیں یقین ہو کہ وہ اللہ کی( مقرر کردہ) حدّوں کو قائم رکھ سکیں گے آپس میں لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ۰۰۲۳۱ دوبارہ رجوع کر لینے پر کوئی گناہ نہ ہوگا۔اور یہ اللہ کی( مقرر کردہ) حدّیں ہیں جنہیں وہ علم والے لوگوں کے لئے کھول کر بیان کرتا ہے۔تفسیر۔پہلے فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِيْحٌۢ بِاِحْسَانٍمیں دو صورتیں بیا ن کی تھیں۔اب طلاق وا لی صورت کو علیٰحدہ بیان کر تا ہے۔اور فر ما تا ہے کہ اگر تیسری طلاق بھی وا قع ہو جائے تو اس صورت میں وہ عورت اس مرد کے لئے جا ئز نہیں ہو گی ہا ں اگر وہ عورت کسی دوسرے مرد سے شادی کرے اور پھر دوسرا بھی اسے طلاق دےدے یا فوت ہو جا ئے اور پھر وہ پہلا شخص اور یہ عورت یقین رکھتے ہوں کہ وہ حدود اللہ کو قا ئم رکھ سکیں گے تو پھر ان دونوں کا آپس میں نکاح ہو سکتا ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے روا یت ہے کہ طَلَّقَ رَجُلٌ اِمْرَأتَہٗ ثَلَا ثًا۔فَتَزَ وَّجَھَا رَجُلٌ ثُمَّ طَلَّقَھَا قَبْلَ اَنْ یَّدْ خُلَ بِھَا فَاَ رَادَ زَوْجُھَا الْاَ وَّلُ اَنْ یَّتَزَوَّجَھَا فَسُئِلَ رُسوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ و سلم عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ لَا حَتّٰی یَزُوْقَ الْاٰخِرُمِنْ عُسَیْلَتِھَا مَا ذَاقَ اْلاَوَّلُ(مسلم کتاب النکاح باب لا تحل المطلقۃ ثلاثا۔۔۔) یعنی ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں اور پھر اس کی بیوی نے ایک اور