تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 360 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 360

خدا کو پسند نہیں اس لئے میں یہ کا م نہیں کر تا تا میرا خدا مجھ پر نا راض نہ ہو۔پس رُ شد و ہدا یت یہ نہیں کہ طلاق کو عا م کیا جا ئے بلکہ رشد و ہدا یت یہ ہے کہ طلاق سے بچنے کی کوشش کی جا ئے۔حلال کے معنے یہ ہیں کہ چا ہو تو کرسکتے ہو۔یہ قانو ن کے لحا ظ سے منع نہیںلیکن تمہیں دوسروں کے خیا لات۔دوسروں کے جذبات۔دوسروں کی ہمدردی اور دوسروں کے پیارکو بھی ملحوظ رکھنا چاہیے جس حلال پر عمل کرنے سے دوسروںکے خیالات۔دوسروںکے جذبات۔دوسروںکی ہمدردی اور دوسروں کے پیار کاخو ن ہوتا ہو۔وہ حلال نہیں بلکہ ایسا حلال ایک جہت سے حلال ہے اور دوسری جہت سے حرام ہے۔جب لوگ اپنے دوستوں کی نا راضگی اور قوم کی نا را ضگی کا خیال رکھتے ہیں تو کیا خدا تعا لیٰ کی نا را ضگی ہی ایسی چیز ہے جس سے انسا ن کو بے پرواہ ہو جانا چا ہیے؟ کیا خدا تعا لیٰ کا وجود ہی ایسا کمزور ہے کہ جس کی نا راضگی انسا ن کے لئے قا بل اعتناء نہیں؟ جب دنیوی اور سفلی عشق رکھنے والے لوگ اپنے محبوب کی چھو ٹی سے چھو ٹی خفگی سے بھی ڈرتے ہیں اور اس کو نا راض ہو نے کا موقعہ نہیں دیتے۔تو ایک مومن رسول کر یم صلی اللہ علیہ وآلہٖ ووسلم کی یہ حد یث پڑھ کر یا سن کر کہ اِنَّ اَبْغَضَ الْحَلَالِ عِنْدَاللّٰہِ الطَّلَاقُ کس طرح آ سا نی سے یہ جرأت کر سکتا ہے کہ اس کی خلاف ورزی کر ے۔جب شریعت کہتی ہے کہ تم اس اَبْغَضُ الْحَلَال کو اختیار کرنے سے پر ہیز کرو تو ہر مومن کا فرض ہے کہ وہ ایسے امور میںکمی پیدا کرنے کی کو شش کرے۔اور اس با ت کو میا ں بیوی کے تعلقات کی کشیدگی کے وقت بھول نہ جا ئے۔یہ با ت بھی یا د رکھنی چا ہیے کہ طلاق اور خلع درحقیقت ایک ہی معنے رکھتے ہیں۔اگر مرد عورت کو چھو ڑتا ہے تو وہ طلاق ہو جائےگی اور اگر عورت میاں سے یہ مطا لبہ کرے کہ وہ اسے آ زاد کر دے تو وہ خلع کہلائےگا اور خلع بھی اَبْغَضُ الْحَلَال کے ما تحت ہی آئےگا۔جہا ں تک نسوا نی حقوق کا سوا ل ہے خلع کا مسئلہ مسلما ن بالکل بھو ل چکے تھے جس کی وجہ سے عورتوں کے لئے ازحد مشکلات کا سا منا تھا۔احمدیت نے ان کے اس حق کو قائم کیا اور عورتوں کو ان تکا لیف سے نجا ت دی جو ان حقوق کی عدم موجودگی کی وجہ سے ان کو پہنچتی تھیں لیکن سا تھ ہی اس حدیث کے مضمون کو بھی لو گو ں کے سامنے بو ضاحت بیا ن کیا کہ ان دونوں رستوں کو اختیار کر نااللہ تعالیٰ کے نزدیک اَبْغَضُ الْحَلَال ہے۔قر آ ن کریم کا حکم ہے کہ جب میا ں بیوی میں کو ئی جھگڑا پیدا ہو جا ئے تو اس کو دُور کر نے کے لئے حکم مقرر کئے جا ئیں۔جو کوشش کر یںکہ ان کی رنجش دور ہو جا ئے اور وہ پہلے کی طرح پیار اور محبت کی زندگی بسر کرنے لگیں۔لیکن اگر ایسے ہی حا لات پیدا ہو جا ئیں کہ صلح کی کو ئی صورت نہ ہو سکے تو پھر خلع کی صورت میں قا ضی کے سپرد یہ معا ملہ کیا جا ئے اور وہ اس کا فیصلہ کر ے۔بہر حال یہ امر اچھی طرح یا د کھنا چا ہیے کہ ذرا ذرا سی بات پر خلع اور