تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 359 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 359

(تفسیر لما تریدی (تأویلات أھل السنۃ) سورۃ الطلاق الآیات ۲ تا ۸ )یعنی حلال چیزوں میں سے سب سے زیا دہ ناپسندیدہ چیز خدا تعا لیٰ کے نزدیک طلاق ہے۔جب طلاق حلال چیزوں میں سے سب سے زیا دہ نا پسندیدہ ہے تو ایک مو من جس کے دل میںاللہ تعالیٰ کی محبت ہے وہ اس چیز کے کس طرح قریب جا سکتا ہے جس کے متعلق وہ سمجھتا ہو کہ یہ اللہ تعالیٰ کو سخت نا پسند ہے، ہر کا م جو جا ئز ہے ضروری نہیں کہ اسے کیا بھی جا ئے۔ہر شخص جا نتا ہے کہ بنا رس۔کلکتہ۔مدراس یا بمبئی وغیرہ جانا حلال ہے لیکن کتنے ہیں جو ان جگہوںمیں گئے ہیں۔اگر حلال کے یہی معنے ہیں کہ اسے ضرور کیا جائے توپھر تو یہ ہو نا چا ہیے تھا کہ جن لو گوں کے پا س ان شہروں میں جا نے کے لئے روپیہ نہ تھا۔وہ اپنی جائیدادیں بیچ ڈالتے اور اس حلال کا م کوضرور سر انجا م دیتے لیکن لو گوں کا اس پر عمل نہ کر نا بتاتا ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کو جو بات حلال ہے ضروری نہیں کہ اس پر عمل بھی کیا جا ئے بلکہ منا سب مو قعہ اور محل کا خیا ل رکھنابھی ضروری ہوتا ہے اگر ایک حلال کام کے کر نے سے نا پسند یدگی کے ساما ن پیدا ہو تے ہوں تو اس کا م سے بہر حال اجتناب کیا جائےگا۔مثلاً پیاز کھانا حلا ل ہے لیکن مسجد میں پیاز کھا کر جانا منع ہے(بخاری کتاب الأطعمۃ باب ما جاء فی کراھیۃ أکل الثوم والبصل ) کیونکہ وہاں لوگوں کو اس کی بو سے تکلیف ہوتی ہے۔اسی طرح انسا ن کے لئے یہ حلال ہے کہ وہ سبز رنگ کا کپڑا پہنے یا اُودے رنگ کا کپڑا پہنے یا زرد رنگ کا کپڑا پہنے۔لیکن اگر کسی کا دوست کہے کہ یہ زرد رنگ کا کپڑا خرید لو۔تو وہ کہتا ہے مجھے زرد رنگ اچھا نہیں لگتا کیونکہ اس کے نزدیک حلال وہ چیز ہے جو اس کی پسند کے مطابق ہو اور اس کی طبیعت کو اچھی لگتی ہو۔کھا نے کے متعلق اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ حلال اور طیّب چیزیں کھاؤ۔لیکن بعض لوگ بینگن نہیں کھا تے بعض لو گ کدو کوپسند نہیں کر تے۔اگر ان سے پو چھا جا ئے کہ آ پ بینگن کیو ں نہیں کھا تے تو وہ کہتے ہیں ہمیں پسند نہیں یا دوسرے شخص سے پو چھا جا ئے کہ آ پ کدو کیوں نہیں کھا تے تو وہ کہتا ہے کہ میر ی بیوی اس کو نا پسند کرتی ہے۔اسی طرح جو لو گ مکا ن تیا ر کر تے ہیں وہ اپنے مذاق اور طبیعت کے مطا بق مکا ن بنا تے ہیں۔کوئی ایک منزلہ مکا ن بناتا ہے۔کو ئی دو منزلہ اور کو ئی سہ منز لہ۔کو ئی مکا ن میں با غیچہ لگا نا پسند کر تا ہے اور کو ئی بغیر با غیچہ کے رہنے دیتا ہے۔اب یہ سا ری چیزیں حلال ہو تی ہیں لیکن وہ سب پر عمل نہیں کر تا۔جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ ہر حلال با ت پر عمل کر نا ضروری نہیں۔لیکن جب بیوی کو طلاق دینے کا معا ملہ پیش آ جا ئے تو یہ کہتے ہو ئے کہ بیوی کو طلاق دینا جا ئز ہے فوراً بے سوچے سمجھے اسے طلا ق دے دی جا تی ہے۔حا لا نکہ بعض حلال چیزیں انسا ن اپنے نفس کی خا طر بعض اپنے دوستوں کی خا طر اور بعض سو سا ئٹی کی خا طر ہمیشہ چھو ڑتا رہتا ہے درحقیقت ایسے مو قعہ پر ایک مو من کی حا لت یہ ہو تی ہے کہ وہ اس حلال کو خدا تعالیٰ کی خا طر چھو ڑ دیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ چو نکہ یہ کا م میرے