تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 358
حا لا نکہ اسلام نے اس بیو قو فی کی اجا زت نہیں دی۔اور پھر آج کل کے وہ لوگ جو شر یعت کے پورے واقف نہیں کہہ دیتے ہیں کہ تین دفعہ یکد م طلا ق دینے کے بعدعورت سے دوبارہ نکا ح نہیں ہو سکتا۔حا لا نکہ یہ طلا ق شر عی لحا ظ سے ایک ہی طلا ق ہے اور عدت گزرنے کے بعد عورت سے دوبا رہ نکا ح ہو سکتا ہے لیکن جیسا کہ میں نے بتا یا ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جب اس قسم کے واقعات کثرت سے ہونے لگے تو آ پ نے فر ما یا کہ اب اگر کو ئی شخص اپنی بیوی کو بیک وقت ایک سے زیا دہ طلا قیں دےگا تو میں سزا کے طور پر اس کی بیوی کو اس پر نا جا ئز قرار دے دوںگا۔جب آ پ پر یہ سوا ل ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے تو ایسا حکم نہیں دیا۔پھر آ پ نے ایسا کیوں کیا ہے؟ تو آپ نے فر ما یا۔رسول کر یم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا یہ منشاء تھاکہ اس قسم کی طلا قیں رک جا ئیں۔مگر چو نکہ تم لوگ اس قسم کی طلاق دینے سے رکتے نہیں اس لئے میں سزا کے طور پر اس قسم کی طلا ق کو جا ئز قرار دے دوں گا۔چنانچہ آپ نے ایسا ہی کیا اور آ پ کا ایسا کرنا ایک وقتی مصلحت کے ما تحت تھا اور صرف سزا کے طورپر تھا مستقل حکم کے طور پر نہیں تھا۔بہر حا ل طلا ق ایک ایسی چیز ہے جسے رسول کر یم صلی اللہ علیہ وسلم نے اَبْغَضُ الْحَلَال قرار دیا ہے۔یعنی جائز اور حلال چیزوں میں سے سب سے زیادہ مکر وہ اور نا پسندیدہ چیز۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیوی زند گی میں انسان کے لئے جو چیزیں ضروری اور لا زمی ہیں اور جن کے ذریعہ انسا ن آ رام اور سکینت حا صل کر سکتا ہے وہ میاںبیوی کے تعلقات ہیں۔میا ں بیوی کے تعلقات سے جو سکون اور آ رام انسا ن کو حاصل ہو تا ہے وہ اسے اور کسی ذریعہ سے حا صل نہیں ہو سکتا۔قر آن کر یم میں اللہ تعالیٰ نے ان وجودوں کو ایک دوسرے کے لئے مودت اور رحمت کا موجب قرار دیا ہے۔اسی طر ح با ئیبل میں آ تا ہے اللہ تعالیٰ نے آ دم کے لئے حوّا پیدا کی تا کہ وہ آ دم کے لئے آ رام اور سکون کاموجب ہو۔یعنی حوّا کے بغیر آ دم کے لئے تسکین اور آ رام کی صورت اور کوئی نہ تھی۔لیکن یہی دو وجود جو ایک دوسرے کے لئے تسکین اورآرام اور را حت کا مو جب ہیں کبھی کبھی انہیں لڑا ئی اور جھگڑے کا مو جب بنا لیا جا تا ہے اور راحت اور سکون کی بجا ئے انسا ن کے لئے اس کا مد ّمقا بل یعنی خا وند کے لئے بیوی اور بیوی کے لئے خا وند دنیا میں سب سے زیا دہ تکلیف دینے کامو جب بن جا تا ہے۔ہزاروں خا وند ایسے ہیں جو اپنی بیویوں کے لئے بدترین عذاب ہو تے ہیں۔اور ہزاروں بیو یا ں ایسی ہیں جو اپنے خا وندوں کے لئے بد ترین عذاب ہو تی ہیں۔ایسے مواقع کے لئے اسلا م کا حکم ہے کہ مر د عورت کو طلاق دے دے یا عورت مرد سے خلع کر الے۔لیکن طلا ق اور خلع سے پہلے اسلا م نے کچھ احکا م بیان کئے ہیں جن کو مدّنظر رکھنا مر د اور عورت اور قاضیوں کا فر ض قرا ر دیا گیا ہے تا کہ طلا ق یا خلع عا م نہ ہو جا ئے۔رسول کر یم صلی اللہ علیہ وسلم فر ماتے ہیں۔اِنَّ اَبْغَضَ الْحَلَالِ عِنْدَاللّٰہِ الطَّلَاقُ