تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 327 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 327

کہ جس نے کل اپنے ایمان سے ہاتھ دھونا ہے اسے چاہیے کہ وہ آج ہی اپنا ہاتھ اتنانہ پھیلائے کہ بعد میں یہ انفاق اس کے لئے ٹھوکر کا موجب بن جائے۔دوسرا حکم ان سے اعلیٰ درجہ کے لوگوں کو یہ دیا کہ تمہارا جو اچھے سے اچھا مال ہے اسے تم خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو۔اور (۳) جو لوگ اس سے بھی اوپر درجہ کے ہیں انہیں یہ حکم دیا کہ وہ بغیر کسی کے سوال کے خود ہی اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے اموال دے دیا کریں۔گویا ان سے کسی کو مانگنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آنی چاہیے بلکہ انہیں خودبخود مذہبی اور قومی ضروریات کا خیال رکھنا چاہیے۔اور ہمیشہ اس کے لئے اپنے اموال خرچ کرتے رہنا چاہیے۔کَذٰلِکَ يُبَيِّنُ اللّٰہُ لَکُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّکُمْ تَتَفَکَّرُوْنَ فِی الدُّنْیَا و َالْاٰخِرَۃِ۔کَذٰلِکَ میں ک واحد کی علامت آیا ہے حالانکہ لَکُمْ بتاتا ہے کہ مخاطب بہت سے ہیں۔اس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ کسی جگہ قرآن کریم میں واحد کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے اور مراد جمع ہوتی ہے۔ابوحیان کہتے ہیں وَھِیَ لُغَۃُ الْعَرَبِ یُخَاطِبُوْنَ الْـجَمْعِ بِخِطَابِ الْوَاحِدِ (بحرمحیط زیر آیت ھٰذا) یعنی یہ اہل عرب کا محاورہ ہے کہ وہ بعض دفعہ جمع کے لئے واحد کا صیغہ استعمال کرتے ہیں۔جیسے کہتے ہیں قَدْکَثُرَ الدِّرْھَمُ وَالدِّیْنَارُ۔اسی طرح کہتے ہیں فَقُلْنَا اَسْلِمُوْا اِنَّا اَخُوْکُمْ ہم نے کہا تم مسلمان ہوجائو ہم تمہارے بھائی ہیں۔یعنی اِخْوَانُکُمْ کہنے کی بجائے اَخُوْکُمْ کہہ دیا گیا۔اسی طرح کہتے ہیں کُلُوْافِیْ نِصْفِ بَطْنِکُمْ تَعِیْشُوْا تم نصف بھوک رکھ کر کھائو۔تم زندہ رہو گے۔(الصاحبی لاحمدبن فارس باب الواحد یراد بہ الجمع) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ شرعی احکام کا چونکہ ایک اثر دنیوی زندگی پر پڑتا ہے اور ایک اخروی زندگی پر۔اس لئے ہم اپنے احکام کو واضح طور پر بیان کرتے ہیں تاکہ تم ان پر غور کر سکو۔اور تم جو بھی قدم اٹھاؤ علیٰ وجہ البصیرت اٹھائو۔اندھا دُھند کسی بات کو نہ مانو۔لَعَلَّکُمْ تَتَفَکَّرُوْنَ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃٖ کا اشارہ اِثْمُهُمَاۤ اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا کی طرف بھی ہو سکتا ہے کہ بے شک شراب اور جُوئے میں بعض قسم کے فوائد بھی ہیںمگر ان میں ضرر زیادہ ہیں۔دنیوی نقطہ نگاہ سے بھی اور دینی نقطہ نگاہ سے بھی۔اسی طرح دوسرے احکام بھی تمہارے فائدہ کے لئے دیئے گئے ہیں۔پس تمہارا کام ہے کہ تم غوروفکر سے کام لے کر وہ راہ اختیار کرو جودینی اور دنیوی دونوں رنگ میں تمہیں کامیابی کی منزل کی طرف لے جانے والی ہو۔