تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 27 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 27

گئی ہے کہ تم ہمیشہ اپنی توجہ مکہ کی طرف رکھو اور وہاں کے رہنے والوں کی اصلاح کی کوشش کرتے رہو۔کیونکہ مکہ مکرمہ حج اور عمرہ اور دوسرے دینی اغراض و مقاصد کے لئے جمع ہونے کی جگہ ہے۔اگر وہاں فساد ہوا یا لوگ اچھے نہ رہے تو وہاں آنے والے بھی بُرا اثر لئے بغیر نہیں رہ سکتے۔درحقیقت مرکز جتنا زیادہ مضبوط ہو اسی قدر جماعت کی تنظیم مضبوط ہوتی ہے اور جماعت روحانی لحاظ سے بھی ترقی کرتی چلی جاتی ہے۔پس باہر کے لوگوں کو مرکز کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔اور مرکز والوں کو اپنی اصلاح کرنی چاہیے اور ہمیشہ نیکی اور روحانیت میں ترقی کرنے کی کوشش جاری رکھنی چاہیے۔لِئَلَّا یَکُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَیْکُمْ حُجَّۃٌ۔اس کے بعد فرماتا ہے ہمارے ان احکام کی غرض یہ ہے کہ کفار کو کوئی ایسی دلیل نہ مل جائے جس کی وجہ سے تمہیں ان کے مقابلہ میں شرمندگی اٹھانی پڑے۔بے شک روحانی لوگوں کو اس بات کی کوئی پروا نہیں ہوتی۔وہ کہتے ہیں اگرلوگ اعتراض کرتے ہیں تو بے شک کریں ہمیں ان کے اعتراضوں کی کیاپروا ہے مگر جو ادنیٰ درجہ کے لوگ ہوتے ہیں ان کے لئے یہ بڑی بات ہوتی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ لوگ ہم پر فلاں اعتراض کرتے ہیں اور اس طرح وہ بعض دفعہ بددل ہو کر علٰیحدہ ہوجاتے ہیں۔ان کو فرمایا اچھا ہم تمہارے سپرد یہ کام کرتے ہیں تم اسے ہمت کے ساتھ سرانجام دو تاکہ دشمنوں کی طرف سے تم پر کوئی الزام باقی نہ رہے۔یہ الزام پانچ وجوہ کی بنا پرلگایا جا سکتا ہے۔اوّل یہود کی کتب میں لکھا تھا کہ آنے والا موعود دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ مکہ کو فتح کرے گا۔(استثناء باب ۳۳ آیت ۲) اگر مسلمان مکہ فتح نہ کرتے تویہود کہہ سکتے تھے کہ یہ پیشگوئی اس نبی کے ذریعہ پوری نہیں ہوئی اس لئے ہم اسے کس طرح مان لیں(۲) پھر وہ یہ بھی اعتراض کر سکتے تھے کہ اس بارہ میں خود قرآن کریم کی پیشگوئیاں بھی غلط گئیں۔مثلاً قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے کہا تھا اِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّکَ اِلیٰ مَعَادٍ (القصص:۸۶) یعنی وہ خدا جس نے تجھ پر یہ قرآن فرض کیاہے اپنی ذات کی قسم کھا کر کہتا ہے کہ وہ تجھے اس مقام کی طرف ضرور َلوٹا کر لائے گا۔جس کی طرف لوگ حج اور عمرہ کے لئے بار بار َلوٹ کر آتے ہیں۔پس اگر مکہ فتح نہ ہوتا تو مخالفین اسلام کو اس اعتراض کا موقعہ ملتا۔کہ علاوہ توریت کی پیشگوئی کے خود قرآن کریم کی وہ پیشگوئیاں بھی پوری نہ ہوئیں جو فتح مکہ سے تعلق رکھتی تھیں۔(۳) اگر تحویل قبلہ نہ ہوتی تو یہ اعتراض ہو سکتا تھا کہ حضرت ابراہیم ؑ نے جس نبی کے لئے دعا کی تھی اس کا تعلق تو بیت اللہ سے ضروری تھا اور اس نے اس گھر کی آبادی کے لئے آنا تھا مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو ایک غیر جگہ پر بیٹھا ہے اور کعبہ کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں۔پھر ہم یہ کیونکر سمجھیں کہ وہ دعائے ابراہیمی کا