تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 305
پناہ دے دیتے تھے تو کسی شخص کو یہ جرأت نہیں ہوتی تھی کہ وہ اس مسلمان کو دکھ پہنچا سکے اس لئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی آنکھوں کے سامنے ایک ایک کر کے یہ واقعات آئے اور اس کا تصور کر کے ان پر رقّت طاری ہو گئی اور بات کرنا آپ کے لئے مشکل ہو گیا اور غلبہ رقّت میں آپ نے صرف اپنا ہاتھ اُٹھایا اور شمال کی طرف جہاں شام میں ان دنوں عیسائیوں سے لڑائی ہو رہی تھی اشارہ کر کے کہا کہ اس کا علاج صرف وہاں ہے یعنی اب اس ذلت کا علاج ایک ہی ہے او روہ یہ کہ اس جہاد میں شامل ہو کر اپنی جانیں دے دو۔پھر خود بخود لوگ ان باتوں کو بھول جائیں گے۔چنانچہ اسی وقت وہ لوگ وہاں سے اُٹھے اور اپنے اونٹوں پر سوار ہو کر شام کی طرف روانہ ہو گئے۔وہ سات نوجوان تھے جو اس ذلت کو دور کرنے کے لئے جہا د میں شامل ہوئے اور تاریخ بتاتی ہے کہ پھر ان نوجوانوں میں سے ایک بھی زندہ مکہ کی طرف واپس نہیں آیا۔سب اسی جنگ میں شہید ہو ئے۔جس طرح ان نوجوانوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی جانیں قربان کر کے رضاء الٰہی حاصل کی تھی۔اسی طرح ارتداد کے بعد اسی صورت میں توبہ قبول ہو سکتی ہے۔جب زبان سے ایمان کا اظہار کیا جائے اور عمل سے ہجرت اختیار کی جائے۔خواہ حقیقی رنگ میں یا معنوی رنگ میں۔اور پھر اللہ تعالیٰ کی راہ میں کفار سے جہاد کیا جائے یہی وہ ذرائع ہیں جن سے وہ رحمت الہٰی کے موردبن سکتے ہیں۔يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَيْسِرِ١ؕ قُلْ فِيْهِمَاۤ اِثْمٌ كَبِيْرٌ وہ تجھ سے شراب اور جُوئے کی بابت پوچھتے ہیں۔تو کہہ دے (کہ) ان (کاموں )میں بڑا گناہ (اور نقصان) وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ١ٞ وَ اِثْمُهُمَاۤ اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا١ؕ وَ ہے اور لوگوں کےلئے ان میں (کئی ایک) منفعتیں( بھی) ہیں۔اور ان کا گناہ (اور نقصان )ان کے نفع سے بہت يَسْـَٔلُوْنَكَ مَا ذَا يُنْفِقُوْنَ١ؕ۬ قُلِ الْعَفْوَ١ؕ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ بڑا ہے۔اور وہ (لوگ) تجھ سے (یہ بھی )پوچھتے ہیں کہ وہ (یعنی سائل) کیا خرچ کریں؟ تو کہہ دے کہ جتنا تکلیف لَكُمُ الْاٰيٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَۙ۰۰۲۲۰ میں نہ ڈالے۔اسی طرح اللہ اپنے احکام تمہارے لئے بیان کرتا ہے تاکہ تم سوچ سے کام لو۔حل لغات۔اَلْـخَمْرُ اَلْـخَمْرُ اِسْمُ کُلِّ مُسْکِرٍ خَامِرِ الْعَقْلِ(اقرب) خمر ہر ایک نشہ دینے والی چیز کو