تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 297
لامتناہی زندگی ہے جس میں تمہاری روح نے قربِ الہٰی کی باریک درباریک راہوں پر چلنا ہے۔پس کسی ایک یا چند نیکیوں پر اکتفا نہ کرو بلکہ خیر میں دوسروں سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو۔اور اس امر پر یقین رکھو کہ ایک علیم ہستی تمہاری ہر حرکت اور سکون کو دیکھ رہی ہے۔وہ تمہیں دنیا و آخرت میں اس کا بہترین اجر دے گی۔كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَ هُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ١ۚ وَ عَسٰۤى اَنْ جنگ کرنا تم پر فرض کیا جاتا ہے (اور) اس حالت میں (فرض کیا جاتا ہے)کہ وہ تمہیں ناپسند ہے۔اور بالکل ممکن تَكْرَهُوْا شَيْـًٔا وَّ هُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ عَسٰۤى اَنْ تُحِبُّوْا شَيْـًٔا وَّ ہے کہ تم کسی شے کو ناپسند کرتے ہو حالانکہ وہ تمہارے لئے بہتر ہو۔اور یہ (بھی) ممکن ہے کہ تم کسی شے کو پسند کرتے هُوَ شَرٌّ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ يَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَؒ۰۰۲۱۷ ہو حالانکہ وہ تمہارے لئے دوسری چیز کی نسبت بری ہو۔اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔تفسیر۔اس آیت کا یہ مطلب نہیں کہ صحابہؓ لڑائی کو اس لئے نا پسند کرتے تھے کہ وہ نعوذباللہ بُزدل تھے۔بلکہ ان کی ناپسندیدگی کی وجہ صرف یہ تھی کہ مومن صلح پسند ہوتا ہے اور اس کی پہلی کوشش یہی ہوتی ہے کہ لڑائی نہ ہو اور صلح سے فیصلہ ہو جائے اور اگر وہ اپنے دشمن سے لڑتا ہے تو مجبوراً لڑتا ہے۔صحابہؓ بھی دل سے صلح جُوتھے اور وہ چاہتے تھے کہ اگر کُشت و خون کے بغیر یہ فتنہ دب سکے تو دب جائے مگر انہیں مجبوراً لڑائی لڑنی پڑی۔پس یہ صحابہؓ کی تعریف ہے نہ کہ ان کی مذمت۔یہ ان کی بُزدلی نہیں بلکہ یہ قابل تعریف امر ہے کہ باوجود دشمنوں کے شرارتوں کے وہ یہی چاہتے تھے کہ اگر صلح سے فیصلہ ہو جائے تو اچھا ہے۔چنانچہ فرمایا۔تم تو نہیں چاہتے تھے کہ لڑو حالانکہ دشمن تم پر ظلم پر ظلم کر رہا تھا۔اور تمہیں مار رہا تھا مگر میں جانتا تھا کہ یہ دشمن بغیر لڑائی کے باز آنے والے نہیں۔اس لئے اب ان کی اصلاح کا یہی ذریعہ ہے کہ ان سے لڑا جائے اور انہیں ان کے کئے کا مزا چکھایا جائے۔عیسائیوں نےاس آیت سے دھوکا کھاتے ہوئے اعتراض کیا ہے کہ مسلمان چونکہ لڑائی سے ڈرتے تھے اس لئے معلوم ہوا کہ وہ بزدل اور ڈر پوک تھے۔(تفسیر القرآن از وہیری زیر آیت ھذا) مگر صحابہؓ کو بزدلی کا طعنہ دینے والے عیسائی یہ نہیں دیکھتے کہ ان کے اپنے حواری کیسے بہادر اور دلیر تھے اور انہوں نے مسیح کی گرفتاری کے وقت کیسی