تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 26
بنائو تو وہ زیادہ مضبوط ہو گی۔مضبوط عمارتیں بنانے کے لئے ضروری ہے کہ بنیادیں چوڑی رکھی جائیں سو مربع فٹ میں عمارت کھڑی کرنی ہو تو سوا سو مربع فٹ میں بنیاد رکھنی چاہیے۔چنانچہ دیکھ لو اہرام مصر ہزاروں سال سے کھڑے ہیں جس کی وجہ یہی ہے کہ وہ مثلث شکل میں بنائے گئے ہیں ان کی چوٹی صرف چند مربع گز کی ہے لیکن بنیاد ہزاروں مربع گز میں ہے۔یہ عمارتیں حضرت موسیٰ علیہ السلام سے بھی سینکڑوں سال قبل کی بنی ہوئی ہیں اور کسی نے ان کی مرمت تک نہیں کی لیکن وہ اب تک قائم ہیںاس کی یہی وجہ ہے کہ وہ مثلث شکل میں بنائی گئی ہیں۔نیچے بنیادیں پچاس پچاس ایکڑزمین میں ہیں۔اور اوپر چوٹی صرف چند مربع گز کی ہے۔بوجھ توازن کے ساتھ قائم رہتا ہے اور عمارتیں گرتی نہیں۔ہٹلر کہتا ہے کہ جرمن اور ملکوں سے بڑا ہے۔اس کی آبادی آٹھ کروڑ ہے۔انگلینڈ کی آبادی چار کروڑ ہے۔سپین کی آبادی چار کروڑ ہے۔فرانس کی آبادی چار کروڑ ہے۔اٹلی کی آبادی چار کروڑ ہے۔اگر یہ ممالک پھیلنا شروع کریں تو چار کروڑ سے اوپر نکل کر ان کی طاقت کمزور ہو جائے گی اور باہر کی آبادیاں ان سے طاقتور ہونے لگیں گی۔لیکن جرمن کی بنیاد بڑی ہے اور اس کا خیال تھا کہ اس بنیاد کو بڑا کرنے کے لئے روس کے بھی چند حصے لے لئے جائیں تاکہ دوسرے ممالک کو جب فتح کیا جائے تو وہ اس کے حصے بن سکیں اس پر غالب نہ آسکیں۔مگر یہ گُر مسلمانوں نے نہیں پہچانا حالانکہ قرآن کریم نے انہیں یہ ُگر بتادیا تھا چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ایک طرف خانہ کعبہ کی بنیاد حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ہاتھوں رکھوائی اور دوسری طرف حکم دے دیا کہ لوگ چاروں طرف سے یہاں آئیں اور حج کریں۔اسی طرح عمرہ کا حکم دیا اور اس طرح انہیں سال کے سارے حصوں میں مکہ آنے کی طرف توجہ دلائی۔اسی طرح مدینہ کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر جگہ کے رہنے والے اپنے نمائندے مدینے بھیجا کریں تا وہ یہاں رہ کر دینی تعلیم حاصل کریں۔مگر مسلمانوں نے اس ُگر کو نہ سمجھا اور ان کا ہر سیاسی مرکز مذہبی مرکز سے زیادہ آباد رہا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں کا کثیر طبقہ سیاسی مرکز کی طرف جاتا تھا اور مذہبی مرکز کمزور رہتا تھا۔میرے نزدیک اسلام کو اتنا نقصان اور کسی چیز نے نہیں پہنچایا جتنا نقصان قاہرہ دمشق اور بغداد نے پہنچایا یا جتنا نقصان اصفہانؔ اور ریّؔ نے پہنچایا، یا جتنا نقصان بخارؔا اور مروؔ نے پہنچایا۔ان شہروں نے لوگوں کی توجہ مذہبی مراکز سے ہٹا کر اپنی طرف کر لی۔اگر سب سے بڑے شہر مکہ اور مدینہ ہوتے تو یہ خرابی پیدا نہ ہوتی یونیورسٹیاں بغداد میں بنیں حالانکہ ان کاصحیح مقام مدینہ تھا جامعہ ازہر قاہرہ میں بنا حالانکہ اس کا صحیح مقام مکہ تھا۔پس جو قوم اپنی روحانیت اور علمی طاقت کو پھیلانا چاہتی ہے اس کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ اس کا مرکز زیادہ سے زیادہ وسیع اور مضبوط ہو۔اسی امر کی طرف حَیْثُ مَا کُنْتُمْ فَوَ لُّوْا وُجُوْھَکُمْ شَطْرَہٗ میں اشارہ کیا گیا ہے اور مسلمانوں کو نصیحت کی