تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 293 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 293

غیرت کو برانگیختہ کیا۔اسی طرح حضرت مسیح ناصری علیہ السلام نے جب صلیب پر لٹکتے وقت کہا کہ ایلی ایلی لماسبقتنی (متی باب ۲۷ آیت ۴۶) یعنی اے خدا! چاہیے تو یہ تھا کہ اس مصیبت کے وقت تو میری مددکےلئے آتا لیکن تُو تو مجھے چھوڑ کر چلا گیا ہے تو آپ کا مطلب یہ نہیں تھا کہ خدا تعالیٰ مصیبت کے وقت انہیں واقعہ میں چھوڑ گیا ہے۔بلکہ اس کا مطلب یہ تھا کہ میرا دل گھبرا رہا ہے آپ جلدی میری مدد کے لئے آجائیں پس اس رنگ میں جب دُعا کی جاتی ہے تو قبولیت دُعا پر عدِم یقین کی وجہ سے نہیں ہوتی بلکہ خدا تعالیٰ کو غیرت دلانے کے لئے ہوتی ہے اسی طرح جب مومن کہتے ہیں مَتٰى نَصْرُ اللّٰہِ اے خدا! تیری مدد اور نصرت کب آئےگی تو خدا تعالیٰ کہتا ہے سُنو۔میری مدد آپہنچی۔چنانچہ دیکھ لو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جب فتح مکہ کے لئے تشریف لے گئے تو مکہ والوں کو خیال تک بھی نہیں تھا کہ آپ ان پر حملہ آور ہوںگے۔ابوسفیان خود آپ سے مدینہ میں مل کر آرہا تھا۔جب لوگوں نے آپ کا لشکر دیکھا تو بعض نے کہا کہ یہ لشکر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ہو گا۔اس پر ابوسفیان نے کہا۔تم پاگل تو نہیں ہو گئے میں ابھی مدینہ سے آرہا ہوں۔وہاں کوئی لشکر تیار نہیں تھا۔مگر اگلے ہی چار پانچ منٹ میں مسلمان اُس کے پاس پہنچ گئے اور انہوں نے ابوسفیان کو گرفتار کر لیا اور دوسرے دن مکہ فتح ہو گیا۔غرض خدا تعالیٰ کی نصرت اچانک آتی ہےاور مومنوں کو کامیاب کر دیتی ہے۔عیسائیوں نے تین سو سال تک بڑے بڑے مصائب برداشت کئےلیکن ایک دن انہوں نے سُنا کہ روم کا بادشاہ عیسائی ہو گیا ہے اورآئندہ سے ملک کا مذہب عیسائیت ہو گا اور اس اعلان کے ساتھ ہی ان کے تمام مصائب ختم ہو گئے۔غرض مَتٰى نَصْرُ اللّٰہِ۔میں یہ بتایا ہے کہ مومن دُعائیں کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ الہٰی ابتلاء بڑھ گئے ہیں اب تیری مدد آجائے۔اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہےاَلَاۤ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ۔سُنو! خدا کی مدد قریب ہی ہے یعنی جب ابتلاء تمہاری ترقیات کے لئے آئیں تو پھر تمہیں تباہ ہونے کا ڈر نہیں ہونا چاہیے۔اگر تمہارے نفسوں میں خرابی ہے اور تم جانتے ہو کہ خدا تعالیٰ تمہیں سزا دینا چاہتاہے تو پھر یقیناً تمہارے لئے مدد نہیں آئےگی۔لیکن اگرتمہارے نفسوں میں کوئی خرابی نہیں تمہارا ایمان مضبوط ہے تم تقویٰ کی راہ پر قدم ماررہے ہو۔وساوس پر تمہیں قابو حاصل ہے تو ابتلاء تمہارے لئے خوف و خطر کا باعث نہیں ہوسکتے۔درحقیقت ایک سچے مومن پر جب ابتلاء آتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ اس ابتلاء کے ساتھ ہی خدا تعالیٰ کی مدد بھی آرہی ہے۔مولانا رومؒ نے اسی مضمون کو اس طرح بیان کیا ہے کہ؎