تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 292 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 292

فرماتا ہے کہ کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ وہ جنت جس کی وسعت کا اندازہ بھی تم نہیں لگا سکتے تمہیں یونہی مل جائےگی یا وہ دنیوی کامیابیاں جن کا تمہیں وعدہ دیا جا رہا ہے بغیر قربانیوں کے تمہیں مل جائیں گی اور تم پر وہ حالت نہیں گذرے گی جو پہلوں پر گذرتی رہی۔ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔وہ حالت ضرورآئے گی۔اس لئے یہ مت خیال کرو کہ تم آسانی سے کامیاب ہو جائو گے۔جب تک تم ان حالتوں میں سے نہیں گذرو گے جن میں سے پہلے لوگ گذرے اس وقت تک تمہیں کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔انہیں بڑی بڑی تکالیف پہنچی تھیں جسمانی بھی اور مالی بھی۔انہیں اپنی جائیدادیں چھوڑنی پڑیں۔رشتہ داروں کو ترک کرنا پڑا۔فاقے کرنے پڑے۔ماریں کھائیں۔قتل ہوئے۔غرض وہ کئی رنگ میں ہلائے گئے جس طرح زلزلہ سے عمارت کبھی دائیں طرف جھکنے لگتی ہے اور کبھی بائیں طرف اسی طرح دیکھنے والے ان کے متعلق یہی سمجھتے تھے کہ یہ اب گِرے کہ گِرے حتّٰی کہ ان کی تکالیف بڑھتے بڑھتے اس حد تک پہنچ گئیں کہ دشمن نے یہ خیال کر لیا کہ اب یہ گِر ہی گئے ہیں۔اس وقت اللہ تعالیٰ کے رسول اور مومنوں نے دعائیں کرنی شروع کیں کہ مَتٰى نَصْرُ اللّٰہِ۔اے خدا! ابتلاء اب اس حد تک پہنچ گئے ہیں کہ ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ آپ کی مدد آئے اور ہمیں کامیابی عطا کرے۔مَتٰى نَصْرُ اللّٰہِ کے لفظی معنے چونکہ یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مدد کب آئےگی۔اس لئے جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ ان کو خدا تعالیٰ کی مدد کے متعلق نعوذ باللہ شبہ پیدا ہو گیا تھا۔کہ شاید وہ آئے یا نہ آئے اس لئے انہوں نے کہا کہ خدا یا! تیری مدد کب آئے گی؟ مگر یہ صحیح نہیں اوّل تو مَسَّتْـھُمْ میں مَسَّ کا لفظ دومعنوں میں استعمال ہوا ہے۔ایک یہ کہ عملاً ان کو مشکلات پہنچیں اور دوسرے یہ کہ وہ مشکلات دل پر اثر کرنے والی نہیں تھیں صرف سطحی تھیں ان کے دل مضبوط تھے پس جب مشکلات کے باوجود وہ بہادر دل تھے تو ان کے متعلق کسی مایوسی کا سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا۔دوسرے سوال کبھی التجاء کا رنگ بھی رکھتا ہے انسان کسی سے پوچھتا ہے کہ یہ بات آپ کب کریںگے؟ تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ نہیں کریںگے بلکہ یہ ہوتا ہے کہ کردیں۔اسی طرح مجسٹریٹ سے جب پوچھا جاتا ہے کہ میری باری کب آئے گی تو اس کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ کبھی نہیں آئے گی۔بلکہ یہ ہوتا ہے کہ آجائے۔بدر کے موقعہ پر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی کہ اے خدا! اگر یہ مختصر سا گروہ بھی ہلاک ہو گیا تو دنیا میں تیری عبادت کون کرے گا(مسند احمد بن حنبل ،مسند عمر بن الخطاب)۔تو اس کے یہ معنے نہیں تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نعوذباللہ خدا تعالیٰ پر یقین نہیں تھا بلکہ اس رنگ میں دُعا کر کے آپؐ نے خدا تعالیٰ کی