تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 256 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 256

کناروں تک پانی سے بھراہوا ہوتا ہے۔اور پھر اسی حالت میں جبکہ ساقی کو ثر کی روحانی شراب سے تمہارے جام لبالب بھرے ہوئے ہوں تم مشعر الحرام کے پاس پہنچو اور اللہ تعالیٰ کو یاد کرو۔گویا روحانی انعامات کی وہ بارش جو عرفات میں تم پر نازل ہوئی ہے وہ تمہیں بہاتی ہوئی مشعر الحرام کی طرف لے جائے اور تمہیں اپنے محبوب کے قدموں تک پہنچا دے۔وَ اذْكُرُوْهُ كَمَا هَدٰىكُمْاس کے دو معنے ہیں۔ایک یہ کہ اُذْکُرُوْہُ ذِکْرًا کَمَا ھَدٰ لکُمْ اس کا اس طرح ذکر کرو جس طرح اس نے تمہیں ہدایت دی ہے اور دوسرے یہ کہ اس کا ذکر کرو کیونکہ اس نے تم کو ہدایت دی ہے۔ان معنوں کے لحاظ سے اس جگہ کَمَا کا استعمال ایسا ہی ہے جیسا كَمَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَى الْمُقْتَسِمِيْنَ(الحجر : ۹۱) میں کیا گیا ہے۔وَ اِنْ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الضَّآلِّيْنَ میں اِنْ مخففہ ہے اور اس کے معنے ’’گو‘‘ کے ساتھ ملتے ہیں۔فرّاء نے کہا ہے کہ اس کے معنے نفی کے ہیں۔اور لام کے معنے اِلَّا کے ہیں۔یعنی ’’تم اس ہدایت سے پہلے نہ تھے مگر گمراہ‘‘۔کسائی نے کہا ہے کہ اس کے معنے قَدْ کے ہیں اور لام زائد ہے۔یعنی تم ضرور اس سے پہلے گمراہوں میں سے تھے۔ثُمَّ اَفِيْضُوْا مِنْ حَيْثُ اَفَاضَ النَّاسُ وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ١ؕ اور جہاں سے لوگ(واپس)لوٹتے رہے ہیں وہیں سے تم بھی (واپس) لوٹو اور اللہ (تعالیٰ) سے مغفرت طلب کرو۔اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۰۰۲۰۰ اللہ یقیناًبہت بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔حل لغات۔اَفِیْضُوْا اَفَاضَ یَفِیْضُ سے امر کا صیغہ ہے اور اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ کے معنے ہیں دَفَعْتُمْ مِنْھَا بِکَثْرَۃٍ تَشْبِیْھًا بِفَیْضِ الْمَآءِ۔یعنی تم وہاں سے کثرت سے چل پڑو۔یہ معنے پانی کے کثرت سے بہنے کے ساتھ بطور تشبیہ کے ہیں۔(مفرداتِ راغب) تفسیر۔اس آیت کے متعلق سوال پیدا ہوتا ہے کہ افاضہ تو ہو چکا پھر یہ کونسا نیا افاضہ ہے جس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے یعنی عرفات سے تو لوٹ آئے پھر اور کہاں سے لوٹنے کا حکم دیا گیا ہے؟ سو یاد رکھنا چاہیے کہ اس جگہ ثُمَّ کے معنے ’’اور‘‘ کے ہیں۔اور اس بات کو اس لئے دہرایا ہے کہ پہلے اس بارہ میں کوئی حکم نہ تھا بلکہ صرف اظہار واقعہ کیا گیا تھا۔اب حکم دیا کہ جہاں سے دوسرے لوگ واپس لوٹتے رہے ہیں وہیں سے تم بھی لوٹو۔اور یہ حکم اس