تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 233 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 233

عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰى يُقٰتِلُوْكُمْ فِيْهِ١ۚ فَاِنْ قٰتَلُوْكُمْ کے قرب(وجوار) میں(اس وقت تک) جنگ نہ کرو جب تک وہ (خود) تم سے اس میں جنگ (کی ابتداء) فَاقْتُلُوْهُمْ١ؕ كَذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِيْنَ۰۰۱۹۲فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ نہ کریں۔اور اگر وہ تم سے (وہاں بھی) جنگ کریں تو تم بھی انہیں قتل کرو۔ان کافروں کی یہی سزا ہے۔پھر اگر وہ باز اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۰۰۱۹۳ آجائیں تو یقیناً اللہ بڑا بخشنے والا (اور ) بار بار رحم کرنے والا ہے۔حلّ لُغات۔اَلْفِتْنَۃُ کے معنے ہیں (۱) اَلْعَذَابُ عذاب (۲) اَلْاِ بْتِلَاء ابتلاء (۳) اِخْتِلَافُ النَّاسِ فِی الْآٰ رَائِ وَمَا یَقَعُ بَیْنَھُمْ مِنَ الْقِتَالِ وہ لڑائی جو اختلافِ آراء کی وجہ سے لوگوں میں پیدا ہو۔(اقرب) تفسیر۔مخالفین اسلام کے نزدیک اس آیت میںمسلمانوں کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ جہاں کوئی کافر ملے اُسے مار ڈالو۔مگر اس میں ہر گز یہ نہیں کہا گیا کہ جہاں کوئی کافر ملے اسے تہ تیغ کر دوبلکہ اس جگہ وَ اقْتُلُوْهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ۠کے حکم کے ماتحت صرف وہ کفار آتے ہیں جن کا پہلے ذکر آچکا ہے اور جنہوں نے مسلمانوں سے عملاً جنگ شروع کر دی تھی ایسے لوگوں کے ساتھ لڑائی جاری رکھنے میں نہ اخلاقاً کوئی اعتراض ہو سکتا ہے اور نہ شرعاً۔اور حَيْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ۠ میں اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ جہاں کہیں بھی تمہاری اور ان کی جنگ کے ذریعہ سے مٹھ بھیڑ ہو جائے وہاں تم ان سے جنگ کرو۔یہ نہیں کہ اِکّا دُکّا ملنے پر حملہ کرتے پھرو بلکہ تمہاری جنگ صرف باقاعدہ فوج کے ساتھ ہونی چاہیے۔خواہ وہ فوج ہو جس نے مقابلہ میں ابتداء کی ہے یا اُسی فوج کا کوئی دوسرا حصہ ہو جو اس کی مدد کر رہا ہو۔پھر فرمایا وَ اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ حَيْثُ اَخْرَجُوْكُمْ اور تم بھی انہیں اس جگہ سے نکال دو جس جگہ سے انہوں نے تم کو نکالا ہے۔ان الفاظ میں یہ پیشگوئی مخفی تھی کہ ایک زمانہ میں مسلمان ایسی طاقت حاصل کرلیں گے کہ وہی مقام جہاں سے انہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہؓ کو نکلنے پر مجبور کیا تھا۔اللہ تعالیٰ اس میں مسلمانوں کو فاتحانہ طور پر داخل کرے گا۔اور یا تو مسلمان کفار کے مظالم کا تختہ مشق بنے ہوئے تھے اور یا کفار مسلمانوں کی منتیں کرتے