تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 226
قرب الٰہی کی ان منازل کو دنوں میں طے کر لیتے جنہیں وہ سالوں میں بھی طے نہ کر سکے بلکہ ان ریاضتوں کے نتیجہ میں ان میں سے کئی مسلول اور مدقوق ہو کر مر گئے۔کئی دیوانے ہو گئے اور کئی مر گی کا شکار ہو گئے۔وَ اْتُوا الْبُيُوْتَ مِنْ اَبْوَابِهَا وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۔اس میں بتایا کہ کامیابی ہمیشہ ابواب ہی کے ذریعہ آنے سے ہوا کرتی ہے۔اگر تم ایسا نہیں کرتے اور دروازوں میں سے داخل ہونے کی بجائے دیواریں پھاند کر اندر داخل ہونا چاہتے ہو تو تمہیں کبھی کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔مثلاً لڑائی کے زمانہ میں اگر تم ہتھیاروں سے کام لینا نہ سیکھو اور جنگی فنون کی تربیت نہ لو بلکہ یونہی سینہ تان کر دشمن کے سامنے چلے جائو۔تو تم کامیاب نہیں ہو سکتے۔لیکن اگر چھوٹی سے چھوٹی تلوار بھی تمہارے پاس ہو یا تمہیں لاٹھی چلانا ہی آتا ہو تو تم قوم کے لئے مفید وجود بن سکتے ہو۔پس کامیابی کے لئے ان ذرائع اور اسباب کو استعمال کرنا ضروری ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے مقرر کئے ہوئے ہیں۔ورنہ اسے ناکامی کے سوا اور کچھ حاصل نہیں ہوتا۔پھر وَ اتَّقُوا اللّٰهَ کہہ کر اس طرف اشارہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ ذرائع اور اسباب کو نظر انداز کرنا اللہ تعالیٰ کے قانون اور اس کے نظام کی ہتک کرنا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو اور ہر چیز کے حصول کے جو طریق اللہ تعالیٰ نے مقرر کئے ہوئے ہیں انہی کے مطابق چلو اپنے پاس سے نئے نئے طریق وضع نہ کرو۔مثلاً رمضان کے مہینہ میں بیشک روزے رکھنا ایک بڑی نیکی ہے لیکن اگر اسی پر قیاس کرتے ہوئے کوئی شخص کسی اور مہینہ میں بھی تیس تیس روزے رکھنے شروع کر دے اور سمجھے کہ وہ اس طرح اللہ تعالیٰ کو راضی کر لےگا تو وہ ایسا ہی ہو گا جیسے کوئی دروازہ سے داخل نہ ہو بلکہ نقب لگا کر داخل ہو اور اندر جا کر کہے کہ دیکھئے میں کیسی مشقّت اٹھا کر آپ تک پہنچا ہوں۔ایسے شخص کی کوئی تعریف نہیں کر سکتا بلکہ ہر شخص اسے ملامت کرے گا اور اس کے فعل کو قابلِ مذمت قرار دےگا۔وَ قَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْا١ؕ اور اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے جنگ کرو جو تم سے جنگ کرتے ہیں۔اور کسی پر زیادتی نہ کرو۔اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ۰۰۱۹۱ (اور یاد رکھو )کہ اللہ (تعالیٰ) زیادتی کرنے والوں سے ہر گز محبت نہیں کرتا۔تفسیر۔اب اللہ تعالیٰ نے دینی جنگوں کے احکام بیان کرنے شروع کئے ہیں۔چنانچہ اس پہلی آیت میں