تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 224 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 224

ان آیات قرآنیہ سے واضح ہے کہ تاریخ اور حس<mark>اب</mark> کے ساتھ سورج اور چاند دونوں کا تعلق ہے۔اور یہ علوم کبھی ظاہر نہیں ہو <mark>سکتے</mark> تھے اگر سورج اور چاند کا وجود نہ ہوتا۔اگر سورج اور چاند نہ ہوتے تو دنوں اور <mark>سال</mark>وں کا اندازہ ہی نہ ہو سکتا <mark>اس</mark> لئے کہ اندازہ اور فاصلہ معلوم <mark>کر</mark>نے کے لئے <mark>کسی</mark> مستقل چیز کا موجود ہونا ضروری ہوتا ہے۔جیسے پٹواری حس<mark>اب</mark> لگاتے ہیں تو کہتے ہیں فلاں زمین فلاں کنوئیں سے اتنے <mark>کر</mark>م کے فاص<mark>لے</mark> پر ہے یا فلاں درخت سے اتنے <mark>کر</mark>م کے فاص<mark>لے</mark> پر ہے۔پس چونکہ <mark>کسی</mark> مستقل چیز کے بغیر فاصلہ کا معلوم <mark>کر</mark>نا <mark>ناممکن</mark> ہوتا ہے <mark>اس</mark> لئے اگر سورج اور چاند نہ ہوتے تو <mark>سال</mark>وں اور دنوں کا اندازہ بھی نہ ہو سکتا۔<mark>اس</mark>لام نے <mark>اپنی</mark> عب<mark>ادا</mark>ت میں سورج اور چاند دونوں سے وقت کے اندازے کئے ہیں۔مثلاً دن بھر کی نمازوں کے اوقات اور روزہ کی <mark>اب</mark>تداء اور <mark>اس</mark> کی افطاری وغیرہ کا تعلق <mark>شمسی</mark> نظام کے ساتھ ہے۔لیکن جہاں عب<mark>ادا</mark>ت <mark>کسی</mark> خاص <mark>مہینہ</mark> سے تعلق رکھتی ہیں وہاں قمری نظام سے کام لیا گیا ہے جیسے رمضان اور ایام <mark>حج</mark> کے لئے قمری مہینوں کو اختیار کیا گیا ہے تاکہ دونوں <mark>عبادت</mark>یں <mark>سال</mark> کے ہر <mark>حصہ</mark> میں چ<mark>کر</mark> کھاتی رہیں۔اور ایک مومن فخر کے ساتھ یہ کہہ سکے کہ <mark>اس</mark> نے <mark>سال</mark> کے ہر <mark>حصہ</mark> میں اللہ تعالیٰ کی <mark>عبادت</mark> کی ہے۔مثلاً رمضان کا انحصار چونکہ قمری مہینوں پر ہے۔<mark>اس</mark> لئے۳۶ <mark>سال</mark> میں ایک دور ختم ہو <mark>جاتا</mark> ہے اور رمضان کبھی جنوری میں آ<mark>جاتا</mark> ہے اور کبھی فروری میں کبھی مارچ میں اور کبھی اپریل میں <mark>اس</mark> طرح <mark>سال</mark> کے ۳۶۵ دنوں میں سے ہر دن ایسا ہوتا ہے جس میں انسان نے روزہ رکھا ہوتا ہے لیکن اگر <mark>شمسی</mark> مہینوں پر روزے <mark>مقرر</mark> ہوتے تو اگر ایک دفعہ جنوری میں روزے آتے تو پھر ہمیشہ جنوری میں ہی روزے رکھنے پڑتے اور <mark>اس</mark> طرح <mark>عبادت</mark> کو وسعت حاصل نہ ہوتی۔پس <mark>عبادت</mark> کو زیادہ وسیع <mark>کر</mark>نے کے لئے اور <mark>اس</mark> غرض کے لئے کہ انسان <mark>اپنی</mark> زندگی کے ہر لحظہ کے متعلق کہہ سکے کہ وہ <mark>اس</mark> نے اللہ تعالیٰ کی <mark>عبادت</mark> میں گذارا ہے <mark>عبادت</mark> کا انحصار قمری مہینوں پر رکھا گیا ہے لیکن <mark>سال</mark> کے اختتام یا <mark>اس</mark> کے شروع ہونے کے لحاظ سے انسانی دماغ سورج سے زیادہ تسلی پاتا ہے۔بہر حال قمری اور <mark>شمسی</mark> دونوں نظام حس<mark>اب</mark> کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں لیکن <mark>اس</mark> میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ جہاں تک عوام الن<mark>اس</mark> کا تعلق ہے وہ چاند کے مہینوں سے ہی زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں کیونکہ <mark>شمسی</mark> نظام سے تعلق رکھنے <mark>وا<mark>لے</mark></mark> حس<mark>اب</mark>ات ان کی علمی <mark>اس</mark>تعداد سے بالا ہوتے ہیں۔وَلَیْسَ الْبِرَّ بِاَنْ تَاْتُواالْبُیُوْتَ مِنْ ظُھُوْرِھَا کہتے ہیں <mark>اس</mark>لام سے پہ<mark>لے</mark> عربوں کا دستور تھا کہ جب وہ <mark>حج</mark> کے لئے احرام باندھ لیتے اور <mark>اس</mark> دوران میں انہیں گھر آنے کی ضرورت پیش آتی تو وہ دروازوں سے آنے کی بجائے گھروں کی پشت سے دیوار پھاند <mark>کر</mark> آتے تھے(بخاری کت<mark>اب</mark> التفسیر سورة البقرة ب<mark>اب</mark> قولہ لیس البر بان تاتوا البیوت۔۔۔)