تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 217 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 217

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب مومن بندے خدا تعالیٰ کی رضا ء کےلئے اپنے آپ کو کسی مشقت میں ڈالتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی رحمت جو ش میں آتی ہے اور وہ کسی نہ کسی شکل میں انسان کے لئے آسانیاں پیدا کر دیتا ہے۔گویا اُن کے اخلاص کا انہیں دم نقد فائدہ دے دیتا ہے۔پھر فرماتا ہے فَالْـٰٔنَ بَاشِرُوْهُنَّ وَ ابْتَغُوْا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ۔کَتَبَ عَلَیْہِ اورکَتَبَ لَہٗ میں فرق ہے۔کَتَبَ عَلَیْہِ کے معنے ہوتے ہیں۔اُس پر فرض کیا گیا ہے۔اور کَتَبَ لَہٗ کے معنے ہوتے ہیں اس کےلئے کوئی انعام مقرر کیا گیا ہے۔یا کوئی حق مقرر کیا گیا ہے۔(یا استعارۃً تقدیر مقررہ کے معنوں میں بھی آجاتا ہے )پس اس آیت کے یہ معنے ہوئے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تمہارا حق مقرر کیا ہےاس کو چاہو یعنی جن باتوں کو اللہ تعالیٰ نے جائز کیا ہے یا جن سے نہیں روکا اُن کو بے شک کرو۔وہ تمہارا حق ہیں۔اُن کو چھوڑنے کی کوئی وجہ نہیں۔یا یہ کہ جو اولاد اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے مقدر کر رکھی ہے۔اُس کی جستجو کرو یعنی جو طریق اولاد حاصل کرنےکا اُس نے مقرر کر رکھا ہے اس کے مطابق عمل کرو۔اسی طرح وَ ابْتَغُوْا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْسے یہ بھی مراد ہے کہ اس مقدس مہینہ میں جو کچھ برکات خدا تعالیٰ نے تمہارے لئے مقرر کر رکھی ہیں ان کے حصول کے لئے پوری کوشش کرو۔پہلا طریق جو حقوق نفس کو تلف کرنے والا تھا اس کے نتیجہ میں ممکن تھا کہ تمہارے جسم کو کوئی نقصان پہنچ جاتا اور تم زیادہ محنت اور مشقّت نہ کر سکتے۔مگر اب جبکہ ہم نے اس کی تلافی کر دی ہے اور تمہارے جسم کو بے جا کوفت سے بچالیا ہے تمہارا فرض ہے کہ تم کمر ہمت باندھ کر خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرو اور اُن درجاتِ عالیہ کی تلاش کرو جن کو خدا تعالیٰ نے تمہارے لئے مقدر کر رکھا ہے۔وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْاَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ۔فرماتا ہے تم اس وقت تک کھاؤ پیئو جب تک کہ تمہیں صبح کی سفید دھاری سیاہ دھاری سے الگ نظر آنے لگے۔جب یہ آیت نازل ہوئی تو احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض صحابہ ؓ نے غلطی سے سیاہ اور سفید دھاگے اپنے پاس رکھنے شروع کر دئیے اور انہوں نے خیال کیا کہ ہمیں اس وقت تک کھانے پینے کی اجازت ہے جب تک کہ ہمیں سفید اور سیاہ دھاگے میں فرق نظر نہ آنے لگے۔چنانچہ حدیثوں میں آتا ہے کہ ایک دفعہ حضرت عدیؓ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔اور انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میں نے سیاہ اور سفید دو دھاگے اپنے تکیہ کے نیچے رکھ دئیے ہیں تاکہ جب سیاہ اور سفید دھاگے میں فرق نظر آنے لگے تو مجھے معلوم ہو جائے