تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 216 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 216

دلوں میں عبادت اور ذکر الہٰی کے متعلق پایا جاتا تھا۔انہوں نے جب رمضان کی برکات کا مشاہدہ کیا اور دیکھا کہ خدا تعالیٰ ان دنوں میں آسمان سے اُتر آتا ہے اور بندوں پر اپنے انوار اور برکات کی بارش نازل کرتا ہے تو انہوں نے چاہا کہ وہ رمضان کی راتیں بھی ذکر الہٰی اور عبادت میں بسر کریں اور جنسی تعلقات سے بالا رہیں۔اسی طرح کھانے پینے کے متعلق بھی بعض ناواجب قیود انہوں نے اپنے اوپر عاید کر رکھی تھیں۔چنانچہ بخاری میں حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اس آیت کے نزول سے قبل صحابہؓ میں سے جب کوئی شخص افطاری سے قبل سو جاتا تو آنکھ کھلنے پر وہ نہ رات بھر کچھ کھاتا اور نہ اگلے دن کھاتا یہاں تک کہ پھر دوبارہ شام کا وقت آجاتا۔ایک دفعہ ایک انصاری جو روزہ دار تھے انہوں نے افطاری کے قریب اپنی بیوی سے کچھ کھانے کے لئے مانگا۔اس نے کہاکہ گھر میں تو کچھ نہیں مگر کہیں سے کچھ مانگ لاتی ہوں۔اتنے میں انہیں نیند آگئی او روہ سو گئے۔بیوی باہر سے کھانا لے کر آئی تو چونکہ وہ سو چکے تھے اس لئے پرانے دستور کے مطابق وہ کچھ کھا نہیں سکتے تھے۔نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ساری رات بھوکے رہے اور اگلے دن بھی ان کا روزہ ہی رہا۔بارہ بجے کے قریب وہ شدت ضعف کی وجہ سے بیہوش ہو گئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اس واقعہ کی اطلاع دی گئی تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَآىِٕكُمْ١ؕ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ اسی طرح یہ آیت نازل ہوئی کہ وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْاَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ (بخاری کتاب الصوم باب قول اللہ جل ذکرہ احل لکم لیلۃ الصیام ) درحقیقت یہ پابندیاں یہود کی بعض رسوم کا نتیجہ تھیں۔یہود میں یہ رواج تھا کہ وہ ایٹونمنٹ ڈے یعنی یوم کفارہ کا جب روزہ رکھتے تو ایک صبح سے دوسری صبح تک نہ کچھ کھاتے نہ پیتے (جیوش انسائیکلوپیڈیا زیر لفظ Fasting private fasts)اُن کو دیکھ کر مسلمانوں کو بھی خیال پیدا ہوا کہ شاید جب آدمی سو جائے توا س کے بعد وہ کچھ نہیں کھا سکتا۔اسی طرح مر دو عورت کے اختلاط کے متعلق ان کا خیال تھا کہ سارا رمضان جائز نہیں۔بعض خیال کرتے تھے کہ جس وقت کھانا منع ہو وہ بھی منع ہے ان خیالات کی وجہ سے اگر کوئی سو جاتا تو کھانا نہ کھاتا اور اپنی بیوی کے پاس بھی نہ جاتا۔اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ یہ بے فائدہ تکلیف ہے اس کی کچھ ضرورت نہیں صرف وہی پا بندی انسان کےلئے خیرو برکت کا موجب ہوتی ہے جو الٰہی منشاء کے مطابق ہو ورنہ بلا ضرورت اپنے آپ کو مختلف قیدوں اور پابندیوں میں جکڑ تے چلے جانا درست نہیں ہوتا۔فَتَابَ عَلَیْکُمْ وَعَفَا عَنْکُمْ فرمایا کہ اب ہم نے تم پر رحم کر دیا ہے۔اور تمہارے لئے آسانی بہم پہنچادی ہے اس لئے خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرو اور پہلے سے بھی زیادہ شوق اور مستعدی کے ساتھ نیک کاموں میں حصہ لو۔