تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 204
خدا تعالیٰ کے متعلق ہوتی ہے اور کبھی ملائکہ کے متعلق۔کبھی اس دنیا کے متعلق ہوتی ہے اور کبھی اگلے جہان کے متعلق۔کبھی اس زمین پر رہنے والی چیزوں کے متعلق ہوتی ہے اور کبھی آسمان کی چیزوں کے متعلق۔غرض انسان کی مختلف احتیاجیں ہیں اور ایسی وسیع ہیں کہ جن کی کوئی حد بندی نہیں ہو سکتی۔لیکن انسان کی فطرت میں یہ بات داخل ہے کہ جب اسے کسی چیز کی طلب ہوتی ہے تو اس کے حاصل کرنے کے متعلق وہ کوئی ایسا ذریعہ تلاش کرتا ہے جو قریب ہو پھر قریب کی بھی کئی قسمیں ہیں۔ایک یہ بھی قریب ہے کہ کوئی ذریعہ جلدی سے میسّر آجائے۔چنانچہ ہر انسان اپنا مدّعا حاصل کرنے کے لئے جو ذریعہ قریب دیکھتا ہے اس کو لے لیتا ہے اور بعید کو چھوڑ دیتا ہے۔مگر اس کے علاوہ قریب ایک اور رنگ میں بھی ہوتا ہے یعنی وہ ذریعہ جو مدّعا اور منزل مقصود کے قریب تر پہنچا دے انسان اس ذریعہ کو اختیار کرتا ہے اور دوسروں کو چھوڑ دیتا ہے۔غرض بہت سے قرب ہیں جن کا کسی چیزمیں پایا جانا ہر انسان دیکھتا ہے اور جب وہ سارے قرب کسی میں پالیتا ہے تو اس کو اپنے مدّعا کے حصول کے لئے ُچن لیتا ہے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا کہ وَاِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيْ عَنِّيْ فَاِنِّيْ قَرِيْبٌ کہ انسان اپنے مختلف مقاصد کے لئے کوشش کرتا ہے اور ان کے لئے دیکھتا ہے کہ کونسا ذریعہ اختیار کروں جس سے جلد کامیاب ہو جائوں۔جب انسان ذرائع کو سوچتے سوچتے یہاں تک پہنچے کہ مَیں دُعا کر وں تو اس کو کہہ دو کہ اللہ قریب ہے۔قَرِیْبٌ اِلَیْہِ نہیں فرمایا۔اس لئے کہ خدا تعالیٰ نہ صرف اس انسان کے قریب ہے بلکہ ہر ایک چیز کے قریب ہے اور وہ مدعا حاصل کرنے کا سب سے قریب ترین ذریعہ ہے۔یوں قریب ہونا اَور بات ہے لیکن جس مقصد کو حاصل کرنا ہو اس کے قریب کر دینا اور بات ہے۔غرض خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تمہارے بھی قریب ہوں اور وہ مقصد جسے تم حاصل کرنا چاہتے ہو اس کے بھی قریب ہوں گویا اس آیت میں قربِ مکان کا ذکر نہیں بلکہ یہ بتانا مقصود ہے کہ حصولِ مدّعا کے لئے جتنے قربوں کی ضرورت ہے وہ سب خدا تعالیٰ میں موجود ہیں مثلاً ایک شخص ولایت میں بیٹھا ہوا روپیہ کا محتاج ہے وہ وہاں سے ہمیں مدد کے لئے لکھتا ہے۔اگر ہم اُسے روپیہ بھیجیں تو کئی دنوں کے بعد اُسے ملے گا لیکن اگر ہم اس کے لئے دُعا کریں تو ممکن ہے کہ ادھر ہمارے منہ سےاس کے لئے دعا نکلے اور ادھر اللہ تعالیٰ اس کا کوئی انتظام کر دے۔تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں قریب ہوں اگر کوئی مدد حاصل کرنا چاہتے ہو تو مجھ سے کہو۔اور خدا تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے کے لئے نہ ہاتھ ہلانے کی ضرور ت ہے نہ پائوں سے چلنے کی۔دل ہی دل میں انسان حاضر ہو سکتا ہےکیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں قریب ہوں۔پھر وہ انسان ہی کے قریب نہیں بلکہ جس مدّعا اور مقصد کو حاصل کرنا ہو اس کے بھی قریب ہے۔ادھر انسان یہ کہتا ہے کہ الہٰی فلاں چیز مجھے مل جائے اور ادھر وہ چیز خواہ لاکھوں میل کے فاصلہ پر ہو خدا تعالیٰ اس پراسی