تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 200 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 200

کا کہ میں قریب ہوں۔اگر میں بعید ہوتا تو میں اس کی سجدے کی آہستہ آواز کو بھی کیسے سن سکتا؟ اور اگر میں بعید ہوتا تو اس کی گوشۂ تنہائی میں بیٹھے ہوئے ہاتھ اُٹھا کر یا قیام کی صورت میں آہستہ آواز والی دُعا کیسے سُن لیتا۔میرا اس دُعا کو سُن لینا بتاتا ہے کہ میں اس کے قریب ہوں۔دوسری جگہ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ (ق:۱۷)یعنی پاس ہونا تو الگ رہا جو انسان کی رگ ِ جان ہے ہم اس سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں اس کے معنے یہ ہوئے کہ وہ پاس ہی نہیں بلکہ انسان کے اندر بیٹھا ہوا ہے۔اور یہ ظاہر ہے کہ پاس بیٹھنے والا صرف وہ آواز سنتا ہے جو منہ سے کہی جائے اور جو اندر بیٹھا ہو وہ وہ بات سنتا ہے جو دل سے کہی جائے۔گویا خدا تعالیٰ نے لفظ قریب کی دوسری جگہ تشریح کر دی کہ قریب کا مفہوم یہ ہے کہ حبل الورید یعنی رگِ جان سے بھی میں زیادہ قریب ہوں اور میں ہر پکارنے والے کی پکار کو سنتا ہوں خواہ وہ زبان سے کی گئی ہو یا دل میں کوئی خواہش پیدا ہوئی ہو کیونکہ میرا اس سے تعلق ایسا قریب ہے کہ میں اس کے دل میں بیٹھا ہوا ہوں۔بعض لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم نے تو بڑے اضطراب سے دعائیں کی تھیں مگر وہ قبول نہیں ہوئیں پھر یہ آیت کس طرح درست ثابت ہوئی؟ اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ بے شک اَلدَّاعِ کے ایک معنے ہر پکارنے والے کے بھی ہیں مگر اس کے ایک معنے ایسے پکارنے والے کے بھی ہیں جس کا اوپر ذکر ہو رہاہے۔اور مراد یہ ہے کہ وہ بندے جو مجھے ملنے کے اضطراب میں اور سب کچھ بھول جاتے ہیں اور مجھ سے صرف میرا قرب اور وصال چاہتے ہیں میں ان کی دُعا کو سنتا اور انہیں اپنے قرب میں جگہ دیتا ہوں اسی لئے اللہ تعالیٰ نے یہاں وَاِذَ ا سَاَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فرمایا ہے۔یعنی وہ میرے بارے میں سوال کرتے ہیں اس میں روٹی کا کہیں ذکرنہیں۔نوکری کا کہیں ذکر نہیں بلکہ صرف عَنِّیْ فرمایا ہے عَنِ الْخُبْزِ یا عَنِ الْوَظِیْفَۃِ نہیں فرمایا۔پس جو شخص خدا تعالیٰ کا قرب مانگے اور وہ اسے نہ ملے اسے تو بے شک اعتراض ہو سکتا ہے لیکن دوسروں کے لئے اس میں کوئی اعتراض کی گنجائش نہیں۔پھر اس آیت کی عبارت ایسی ہے کہ اس سے اضطراب اور گھبراہٹ کی طرف خاص طور پر اشارہ پایا جاتا ہے بعض مضامین الفاظ سے ظاہر نہیں ہوتے لیکن وہ عبارت میں پنہاں ہوتے ہیں اور یہی حالت یہاں ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب میرے بندے میری طرف دوڑتے ہیں۔ان کے اندر ایک اضطراب اور عشق پیدا ہوتا ہے اور وہ چِلّاتے ہیں کہ ہمارا خدا کہاں ہے ؟تو تُو ان سے کہہ دے کہ میں تمہاری طرح کے پکارنے والے کی پکار کو کبھی ردّ نہیں کرتا بلکہ اُسے ضرور سنتا اور قبول کرتا ہوں۔ایک دوسری جگہ قرآن کریم میں یہ مضمون ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے