تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 196
فضیلت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایاتھا شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْۤ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ کہ رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ہے۔اب ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے شَھْر کے مقابلہ میں وَلِتُکْمِلُواالْعِدَّۃَ کے الفاظ رکھ دیئے اور بتایا کہ اگر ہم ایک مہینہ مقرر نہ کرتے تو کوئی کم روزے رکھتا اور کوئی زیادہ اور اس طرح وہ روحانی ترقی جو مہینہ بھر کے روزوں کے نتیجہ میں حاصل ہو سکتی ہے اسے وہ حاصل نہ کر سکتے۔اس کے بعد اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ کے مقابلہ میں وَ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ کے الفاظ رکھ کر بتایا کہ ہم نے کوئی اور مہینہ اس لئے مقرر نہیں کیا کہ نزول ِ قرآن کو یاد کر کے اس ماہ میں تمہارے دل میں خاص جوش پیدا ہو سکتا ہے۔جب رمضان کا مہینہ آئےگا تو لازماً تمہیں یہ خیال بھی آئےگا کہ یہ وہ مہینہ ہے جس میں ہم پر خدا تعالیٰ کا ایک بہت بڑا فضل قرآن کریم جیسی مقدّس کتاب کی شکل میں نازل ہوا ہے اور تمہارا دل خود بخود اس مہینہ میں خدا تعالیٰ کی بڑائی بیان کرنے کی طرف متوجہ ہو جائےگا۔پھر وَ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ میں اس امر کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ یہ دن اس لئے ہیں کہ تا اللہ تعالیٰ کی ہدایت پر تم اس کی تکبیر کرو یہ نہیں کہ تم شکوہ کرو کہ ہمیںبھوکا رکھا بلکہ یہ سمجھو کہ بڑا احسان کیا کہ روزہ جیسی نعمت ہمیں عطا کی۔یہاں مومن کا نقطہ نگاہ واضح کیا گیا ہے کہ اسے قربانی کا جو مو قعہ بھی ملے وہ اسے اللہ تعالیٰ کا فضل سمجھتا ہے اور جس قوم کا یہ نقطہ نگاہ ہو جائے اسے کوئی تباہ نہیں کر سکتا۔وہ ضرور کامیاب ہو کر رہتی ہے۔ایسی قوم حقیقی معنوں میں زندہ قوم ہو جاتی ہے۔جب ایک شخص کے دل میں یہ خیال ہو کہ مجھ پر جو دینی ذمہ واریاں ہیں وہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ کی بڑائی کرے گا اور جو شخص خدا تعالیٰ کی بڑائی کرے خدا تعالیٰ اس کی بڑائی کرتا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ تمہیں جو کوئی تحفہ دے تم اسے اس سے بہتر تحفہ دو۔اور جب ہمیں یہ حکم دیاگیا ہے تو کیونکر ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ خود ایسا نہ کرے۔انسان اس کی خدمت میں تحفہ پیش کرے اور وہ اس سے بہتر تحفہ اسے نہ دے۔پس جو شخص خدا تعالیٰ کی بڑائی کرتا ہے خدا تعالیٰ اس کی بڑائی کرتا ہے۔مگر شرط یہی ہے کہ تکبیر صرف منہ سے نہ ہو۔جس تکبیر سے وہ خوش ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ گالیاں کھائو۔ماریں کھائو۔پتھر کھائو اور پھر بھی خدا تعالیٰ کی تکبیر کرو کہ اس نے ہمیں یہ مواقع عطا کئے ہیں۔گویا حقیقی تکبیر یہی ہے کہ جتنا زیادہ ظلم ہو اتنا ہی زیادہ انسان خدا تعالیٰ کی طرف جھکے اور کہے کہ مجھ پر اس کے کتنے احسان ہو رہے ہیں جب اس پر کوئی مصیبت نازل ہو تو وہ اللہ تعالیٰ کی تکبیر کرے اور اس کی بڑائی بیان کرے ایسے شخص کی تکبیر کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ یقیناً اس کو بڑھاتا ہے اور اس کی بڑائی کے سامان پیدا کرتا ہے۔ورنہ صرف مُنہ کی تکبیر یں اس کے کسی کام نہیں آسکتیں۔