تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 195
ذریعہ بنا لیتے ہیں۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ بعض لوگوں کے لئے رمضان ایسا ہی ہوتا ہے جیسے گھوڑے کے لئے خوید۔وہ ان دنوں خوب گھی مٹھائیاں اور مرغن اغذیہ کھاتے ہیں اور اس طرح موٹے ہو کر نکلتے ہیں جس طرح خوید کے بعد گھوڑا۔یہ چیز بھی رمضان کی برکت کو کم کرنے والی ہے۔اسی طرح افطاری میں تنّوع اور سحری میں تکلّفات بھی نہیں ہونے چاہئیں اور یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ سارا دن بھوکے رہے ہیں اب پُرخوری کر لیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانہ میں صحابہ کرام ؓ افطاری کے لئے کوئی تکلّفات نہ کرتے تھے۔کوئی کھجور سے کوئی نمک سے بعض پانی سے اور بعض روٹی سے افطار کر لیتے تھے۔ہمارے لئے بھی ضروری ہے کہ ہم اس طریق کو پھر جاری کریں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہؓ کے نمونہ کو زندہ کریں۔پھر فرماتا ہے وَلِتُکْمِلُوا الْعِدَّۃَ۔اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تم گنتی پوری کرو۔مفسّرین نے اس کے یہ معنے کئے ہیں اور میں خود بھی کبھی کبھی یہ معنے کیا کرتا ہوں کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مہینہ بھر کے روزے مقرر کرنے کی وجہ بتائی ہے اور فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رمضان کا مہینہ اس لئے مقرر کیا ہے تا دن پورے ہوجائیں۔اگر یونہی حکم دے دیتا کہ روزے رکھو تو کوئی دس رکھ لیتا کوئی بیس رکھ لیتا اور کوئی رکھتا ہی چلا جاتا۔پس اللہ تعالیٰ نے ایک مہینہ مقرر کر دیا تاکہ روحانی تکمیل کے لئے جس مدت کی ضرورت ہے اس کو تم پورا کر لو۔یہ معنے بھی اپنی جگہ درست ہیں مگر اس کا ایک یہ مطلب بھی ہے کہ اصل زندگی انسان کی وہی ہے جو نیکی میں گذرے۔عمر کا وہ حصہ جو دنیا کے لئے گذر جاتا ہے ضائع چلا جاتا ہے۔اس لحاظ سے اس کے یہ معنے ہیں کہ ہم نے روزے اس لئے رکھے ہیں تاکہ تم اپنی حقیقی عمر پوری کر لو۔جو لوگ دنیا حاصل کرنے میں ہی مصروف رہتے ہیں وہ قرآنی اصطلاح کے مطابق زندہ نہیں بلکہ مُردہ ہوتے ہیں۔اور مَنْ کَانَ فِیْ ھٰذِہٖ اَعْـمٰی فَھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ اَعْـمٰی (بنی اسرائیل:۷۳) کے مطابق جو اس دنیا میں اندھا ہے وہ اگلے جہاں میں بھی اندھا ہی ہو گا۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔کہ ہم نے روزے اس لئے مقرر کئے ہیں تا تم دنیا میں اپنی مقررہ عمر گذار لو۔چونکہ بنی نوع انسان کے لئے کھانا پینا لازمی ہے اس لئے سارا سال تو روزے نہیں رکھے جاسکتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے اس اصل کے مطابق کہ ایک نیکی کا ثواب کم سے کم دس ُگنا ملتا ہے ایک ماہ کے روزے مقرر کر دیئے اور اس طرح رمضان سارے سال کے روزوں کا قائم مقام ہو گیا۔گویا جس نے اس مہینہ میں روزے رکھ لئے اس نے سارے سال کے روزے رکھ لئے اور اس طرح اس کی زندگی واقعی زندگی ہو گئی۔پھر فرماتا ہے وَ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ۔یہ روزے اس لئے مقرر کئے گئے ہیں کہ تم اس بات پر اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرو کہ اس نے تم کو ہدایت دی ہے۔یہ ایک عجیب بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رمضان کے روزوں کی