تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 187
تو خواہ وہ ابتداء میں تکلّف کے ساتھ ہی ایسا کرے اور اسے اپنے نفس پر ایک رنگ میں بوجھ ہی محسوس ہو تب بھی اس کا نتیجہ اس کے لئے اچھا نکلے گا۔یعنی وہ نیکی اس کے لئے بہترین نتائج پیدا کرنے والی ثابت ہو گی۔عربی زبان میں تَطَوُّع کا لفظ اُس وقت استعمال ہوتا ہے جب اپنے نفس پر بوجھ ڈال کر کسی حکم کی اطاعت کی جائے۔اور تکلّف سے بشاشت کا اظہار کیا جائے (مفردات)۔پس فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَّهٗ میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ جو شخص پورے شرح صدر کے ساتھ کسی نیکی میں حصہ نہ لے سکے اُسے چاہیے کہ کم از کم اپنے نفس پر بوجھ ڈالتے ہوئے ہی اس میں حصہ لے اور اپنے چہرہ پر تکلّف سے بشاشت پیداکرے اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اس کیلئے خیر اوربرکت کے رستے کھول دےگا۔یعنی نیکیوں میں ترقی کرتے کرتے اُسے ایسا مقام میسّر آجائےگا کہ نیکی اس کی غذابن جائےگی اور نیک تحریکات پر عمل اس کےلئے ایسا ہی آسان ہو جائےگا جیسے اعلیٰ درجہ کے مومنوں کےلئے آسان ہوتاہے۔لیکن اس کے علاوہ تَطَوُّع کے معنے محاورہ میں غیر واجب کا م کے نفلی طور پر کرنے کے بھی ہوتے ہیں۔اور امام راغب نے اپنی مشہور کتاب مفردات میں اس کی تصریح کی ہے۔اس لحاظ سے اس آیت کے یہ معنے ہوںگے۔کہ جو شخص نفلی طور پر کوئی نیک کام کرے گا تو یہ اس کےلئے بہت بہتر ہو گا۔یعنی رمضان میں روزے رکھنے یا ایک مسکین کو کھانا کھلانے کا حکم تو ہم نے دے دیا ہے لیکن اگر کوئی شخص ثواب کی نیت سے اس میں کوئی زیادتی کرنا چاہے تو اسے اس کا اختیار ہے۔مثلاً وہ اختیار رکھتا ہے کہ ایک کی بجائے دو مساکین کا کھانا بطور فدیہ دے دے۔یا وہ اختیار رکھتا ہے کہ روزہ بھی رکھے اور حصول ثواب کےلئے ایک مسکین کو کھانا بھی کھلاتا رہے۔یا رمضان کے روزوں کے علاوہ نفلی طور پر دوسرے ایام میں بھی روزے رکھے۔یہ سب حصول ثواب کے ذرائع ہیںجن میں ہر مومن اپنی اپنی طاقت کے مطابق حصہ لے کراللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر سکتا ہے۔پھر فرمایا وَ اَنْ تَصُوْمُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ۔اس کے بعض لوگ یہ معنے کرتے ہیں کہ اگر تم روزہ رکھو تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔مگر یہ صحیح نہیں۔اگر یہ معنے ہوتے تو اِنْ تَصُوْمُوْاکہناچاہیے تھا۔نہ کہ اَنْ تَصُوْمُوْا۔اس کے صحیح معنے یہ ہیں کہ اگر تم علم رکھتے ہوتو سمجھ سکتے ہو کہ روزہ رکھنا تمہارے لئے بہر حال بہتر ہے۔یعنی ہم نے جس حکم کےلئے یہ تمہید اُٹھائی ہے۔وہ کوئی معمولی حکم نہیں بلکہ ایک غیر معمولی خیر اور برکت رکھنے والا حکم ہے۔اس لئے تمہارا فرض ہے کہ تم اسے پوری توجہ سے سُنو اور اس پر عمل کرو۔