تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 186 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 186

مسلمانوں کے ساتھ مل کر یہ عبادت ادا نہیں کر سکے۔آگے یہ عذر دو قسم کے ہوتے ہیں ایک عارضی اور ایک مستقل۔فدیہ بشرطِ استطاعت ان دونوں حالتوں میں دینا چاہیے۔پھر جب عذر دور ہو جائے تو روزہ بھی رکھنا چاہیے۔غرضیکہ خواہ کوئی فدیہ بھی دے دے۔بہرحال سال دو سال یا تین سال کے بعد جب بھی اس کی صحت اجازت دے اسے پھر روزے رکھنے ہوںگے سوائے اس صورت کے کہ پہلے مرض عارضی تھا اور صحت ہونے کے بعد وہ ارادہ ہی کرتا رہا کہ آج رکھتا ہوں کل رکھتا ہوں کہ اس دوران میں اس کی صحت پھر مستقل طور پر خراب ہو جائے۔باقی جو بھی کھانا کھلانے کی طاقت رکھتا ہو اگر وہ مریض یا مسافر ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ رمضان میں ایک مسکین کا کھانا بطور فدیہ دے اور دوسرے ایام میں روزے رکھے یہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کا مذہب تھا اور آپ ہمیشہ فدیہ بھی دیتے تھے اور بعد میں روزے بھی رکھتے تھے اور اسی کی دوسروں کو تاکید فرمایا کرتے تھے۔اس آیت میں جو اَلَّذِیْنَ کا لفظ استعمال ہوا ہے یہ دو کا بدل یعنی قائم مقام ہو سکتا ہے۔اوّل ان مومنوں کا جن کا ذکر يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ میں کیا گیا ہے۔دوم اُن لوگوں کا جن کا ذکر فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ میں ہے۔اگر اسے يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا کا بدل سمجھا جائے تو اس آیت کے یہ معنے ہوںگے کہ وہ لوگ جو ضعف کی وجہ سے روزے سے سخت تکلیف اُٹھاتے ہیں اور اپنے نفس پر بڑی مشقّت برداشت کرتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ روزہ رکھنے کی بجائے ایک مسکین کا کھانا بطورفدیہ دے دیا کریں۔اور اگر دوسرا بدل لیں تو اس کے یہ معنی ہوںگے کہ وہ مریض اور مسافر جو فدیہ دینے کی طاقت رکھتے ہیں وہ فدیہ دے دیں اور پھر دوسرے دنوں میں روزے بھی رکھیں۔کیونکہ بعض امراض ایسی ہوتی ہیں یا بعض سفر ایسے ہوتے ہیں جن میں یہ اشتباہ ہوتا ہے کہ آیا اس میں روزہ ترک کیا جا سکتا ہے یا نہیں ؟ حدیث میں آیا ہے کہ مشکوک اشیاء بھی محارم ہی کے نیچے ہوتی ہیں کیونکہ جو مشکوک تک پہنچتا ہے وہ آہستہ آہستہ محارم تک بھی پہنچ جاتا ہے(بخاری کتاب البیوع باب الحلال بیّن و الحرام بیّن و بینھما مشتبھات)۔پس اگر یہ دونوں باتیں مشکوک ہوں تو ایسے مسافر اورمریض کو چاہیے کہ فدیہ دے دے اور رخصت سے فائدہ اٹھائے اور بعد میں روزے بھی رکھ لے۔اس میں ایسی بیماری والا جس کی بیماری مشتبہ ہو یا ایسا سفر والا جس کا سفر مشتبہ ہو مراد ہیں۔ان میں سے جو لوگ طاقت رکھتے ہوں اُن پر فدیہ دینا لازم ہے کیونکہ ممکن ہے انہوں نے اپنے اجتہاد میں غلطی کی ہو۔اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہی مذہب تھا کہ ایسے لوگ دوسرے ایام میں روزہ رکھیں۔اور رمضان کے دنوں میں فدیہ دیں۔پھر فرماتا ہے فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَّهٗ جو شخص پوری بشاشت اور شوق کے ساتھ نیکی کا کوئی کام کرتا ہے