تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 183
چنانچہ آپؑ نے ایک دفعہ فرمایا۔’’جو شخص مریض اور مسافر ہونے کی حالت میں ماہِ صیام میں روزہ رکھتا ہے وہ خدا تعالیٰ کے صریح حکم کی نافرمانی کرتا ہے خدا تعالیٰ نے صاف فرما دیا ہے کہ بیمار اور مسافر روزہ نہ رکھے۔مرض سے صحت پا نے اور سفرکے ختم ہونے کے بعد روزے رکھے۔خدا کے اس حکم پر عمل کرنا چاہیے کیونکہ نجات فضل سے ہے نہ کہ اپنے اعمال کا زور دکھا کر کوئی نجات حاصل کر سکتا ہے۔خدا تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ مرض تھوڑی ہو یا بہت اور سفر چھوٹا ہو یا لمبا بلکہ حکم عام ہے اور اس پر عمل کرنا چاہیے۔مریض اور مسافر اگر روزہ رکھیں گے تو ان پر حکم عدولی کا فتویٰ لازم آئےگا۔‘‘ (فقہ المسیح صفحہ۲۱۰ بحوالہ بدر ۱۷؍ اکتوبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۷ ) پھر فرماتا ہے وَ عَلَى الَّذِيْنَ يُطِيْقُوْنَهٗ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِيْنٍ۔اس آیت کی تفسیر میں مفسّرین کو بڑی دقّت پیش آئی ہے اور انہوں نے اس کے کئی معنے کئے ہیں۔یہ دقت زیادہ تر اس وجہ سے پیش آئی ہے کہ يُطِيْقُوْنَهٗ میں جو ہٗ کی ضمیر استعمال ہوئی ہے اس کے مرجع کی تعیین میں اختلاف پایا جاتا ہے بعض نے اس کا مرجع صوم کو قرار دیا ہے اور بعض نے فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِيْنٍ کو۔شاہ ولی اللہ صاحب نے اس مشکل کو ’’الفوز الکبیر‘‘ میں اس طرح حل کیا ہے کہ يُطِيْقُوْنَهٗ میں ہٗ کی ضمیر فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ کی طرف گئی ہے اس پر یہ اعتراض پڑتا تھا کہ یہ اضمار قبل الذکر ہے یعنی ضمیر پہلے آ گئی ہے اور مرجع بعد میں ہے۔حالانکہ مرجع پہلے ہونا چاہیے تھا اس کا جواب انہوں نے یہ دیا ہے کہ فدیہ کا مقام چونکہ نحواً مقدم ہے یعنی وہ مبتدا ہے اس لئے اس کی ضمیر اس کے ذکر سے پہلے آسکتی ہے۔دوسرا اعتراض یہ پڑتا تھا کہ فِدْیَۃٌ مؤنث ہے اور ضمیر مذکر۔اس کا جواب انہوں نے یہ دیا ہے کہ فدیہ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ کا قائم مقام ہے اور وہ مذکر ہے۔اس لئے فدیہ کی طرف بھی مذکر کی ضمیر پھر سکتی ہے۔اس بنا پر انہوں نے اس کے یہ معنے کئے ہیں کہ ان لوگوں پر جو فدیہ دینے کی طاقت رکھتے ہوں ایک مسکین کا کھانا بطور فدیہ دینا واجب ہے۔ان کے نزدیک اس آیت میں صدقۃ الفطر کی طرف اشارہ ہے جو اسلام میں نماز عید سے پہلے ادا کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے تاکہ غرباء بھی عید کی خوشی میں شریک ہو سکیں۔دوسرے معنے اس کے یہ کئے جاتے ہیں کہ مومنوں میں سے جو لوگ روزہ کی طاقت رکھتے ہوں وہ روزوں کے ساتھ ساتھ ایک مسکین کا کھانا بطور فدیہ بھی دے دیا کریں(قرطبی)۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل اور احادیث سے چونکہ یہ بات ثابت نہیں کہ روزہ دار فدیہ بھی دے اس لئے یہ معنے تسلیم نہیں کئے جا سکتے۔اس کے علاوہ