تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 14 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 14

وعدہ تو خدا نے کیا ہے اس لئے وہ اسے خود پورا کرے۔ہمیں اس کے لئے کسی قسم کی کوشش کی ضرورت نہیں۔چنانچہ انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہہ دیاکہ اِذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ (المائدة :۲۵ و خروج باب ۳ آیت ۸ تا ۱۷) اے موسیٰ! تُو ہم سے کہا کرتا تھا کہ یہ ملک خدا تعالیٰ تمہیں دے دےگا۔اب تمام ذمہ داری تجھ پر ہے یا تیرے خدا پر۔ہم نے اگر ملک فتح کیا تو پھر تیرے اور تیرےخدا کے وعدوں کا کیا فائدہ؟ چونکہُ تو ہمیں بتایا کرتا تھا کہ خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ یہ ملک ہمیں ضرور ملے گا اس لئے اب ُتو اور تیرا رب دونو جاکر لڑو۔ہم یہیں بیٹھیں گے۔جب تم ملک فتح کر کے ہمیں دے دو گے تو ہم اس میں داخل ہو جائیں گے۔اب بظاہر ان کا کہنا درست معلوم ہوتا ہے اگر کوئی شخص کسی سے کہے کہ میں تمہیں فلاں چیز دوںگا۔اور وہ اس سے آکر وہ چیز مانگے اور وہ آگے سے کہہ دے کہ جائوبازار سے خرید لو۔تو سارے لوگ یہی کہیں گے کہ اگر اُس نے وہ چیز بازار سے ہی خریدنی تھی تو پھر اس کے ساتھ وعدہ کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ پس بظاہر یہ بات معقول نظر آتی ہے لیکن الٰہی سلسلوں میں یہ اوّل درجہ کی غیر معقول بات ہے چنانچہ خدا تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی تعریف نہیں کی۔اس نے یہ نہیں کہا کہ تمہیں لڑنے کی ضرورت نہیں یہ ہمارے ذمہ ہے کہ ہم یہ ملک لے کر تمہیں دیں۔بلکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم نے ہماری ہتک کی ہے اس لئے تمہیں اس ملک سے محروم کیا جاتا ہے۔جائو چالیس سال تک جنگلوں میں بھٹکتے پھرو۔تم اس ملک کے وارث نہیں بن سکتے۔تمہاری نئی نسل اس ملک کی وارث ہوگی(المائدة :۲۷ و گنتی باب ۱۴ آیت ۳۳)۔کیونکہ تم نے ہماری ہتک کی ہے۔تو دیکھو یہ چیز انسانی لحاظ سے تو درست اور معقول کہلاسکتی ہے لیکن الہٰی سلسلہ کے لحاظ سے نہایت ہی غیرمعقول ہے اور انسان کو عذاب کا مستحق بنا دیتی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جب کوئی انسان وعدہ کرتا ہے تو اُسے تغیرات سماوی اور تغیرات ارضی پر اختیار نہیں ہوتا۔اس لئے جب بھی وہ وعدہ کرتا ہے تو ایسی چیز کا کرتا ہے جو اس کے اختیار میں ہوتی ہے۔لیکن خدا تعالیٰ کی طرف سے جو وعدہ ہو گا۔اس کا یہ مطلب ہو گا کہ اگرچہ اُس چیز کا حصول تمہارے لئے ناممکن ہے مگر یہ تمہیں ہماری مدد سے حاصل ہو جائے گی۔وہ قوم جو فرعون کی سینکڑوں سال تک غلام رہی اس کے لئے اینٹیں بناتی رہی لکڑیاں کاٹتی رہی اور ذلیل سے ذلیل کام کرتی رہی وہ اتنے بڑے عظیم الشان ملک پر جس پر عاد قوم حکمران تھی کیسے قبضہ کر سکتی تھی؟ اُسے یہ ملک مل جاناآسان نہیں تھا۔لیکن خدا نے کہا کہ گو یہ ملک حاصل کرنا تمہیں ناممکن نظر آتا ہے لیکن ہم یہ وعدہ کرتے ہیں کہ ہم یہ ملک تمہیںدیں گے اور تم یہ ملک ہماری مدد سے حاصل کر لو گے۔پس خدا تعالیٰ کے وعدے کے یہ معنے نہیں ہوا کرتے کہ چونکہ اس نے وعدہ کر دیا ہے اس لئے بندے کو کوشش کرنے کی ضرورت نہیں۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جب تم اس چیز کو حاصل کرنے کے