تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 173 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 173

دینے کےلئے تیار ہے اور جب وہ روزوں میں ان دونوں اقسام کے نمونے پیش کر دیتا ہے تو وہ خدا تعالیٰ کی لقاء کا مستحق ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ سے تعلق قائم ہونے اور روحانیت کے مضبوط ہوجانے کی وجہ سے وہ شخص ہمیشہ کے لئے گمراہی سے محفوظ ہو جاتا ہے۔پھر رمضان کے ذریعہ استقلال کی عادت بھی ڈالی جاتی ہے کیونکہ یہ نیکی متواتر ایک عرصہ تک چلتی ہے۔انسان دن میںکئی کئی مرتبہ کھانے کا عادی ہوتا ہے۔غرباء اور امراء شہری اور دیہاتی اپنی اپنی حیثیت کے مطابق عام ایام میں کئی دفعہ کھاتے پیتے ہیں مگر رمضان میں تمام کھانے سمٹ سمٹاکر صرف دو بن جاتے ہیں۔اسی طرح جہاں دوسرے ایام میں وہ ساری رات سوئے رہتے ہیں وہاں رمضان کے ایام میں انہیں تہجد اور سحری کے لئے اُٹھنا پڑتا ہے اور دن کو بھی قرآن کریم کی تلاوت میں اپنا کافی وقت صرف کرنا پڑتا ہے۔غرض رمضان کے ایام میں اپنی عادت کی بہت کچھ قربانی کرنی پڑتی ہے اور یہ قربانی ایک دن نہیں دو دن نہیں بلکہ متواتر ایک مہینہ تک بغیر ناغہ کے کرنی پڑتی ہے۔پس روزوں سے استقلال کا عظیم الشان سبق ملتا ہے۔اور درحقیقت بغیر مستقل قربانیوں کے کوئی شخص خدا تعالیٰ کو نہیں پا سکتا کیونکہ حقیقی محبت جوش دلانے سے تعلق نہیں رکھتی اور نہ وہ عارضی ہوتی ہے بلکہ حقیقی محبت استقلال سے تعلق رکھتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو معلوم ہو اکہ آپ کی ایک بیوی نے چھت سے ایک رسّہ اس لئے لٹکا رکھا ہے کہ جب نماز پڑھتے پڑھتے انہیں اونگھ آنے لگے تو اس کا سہارا لے لیں تو آپ نے فرمایا یہ کوئی عبادت نہیں۔عبادت وہی ہے جسے انسان بشاشت سے ادا کر سکے۔اور جس کے نتیجہ میں ایسا ملال پیدا نہ ہو۔جو اس کے دوام اور استقلال کو قطع کرنے کا موجب بن جائے۔(بخاری کتاب التہجد باب ما یکرہ من التشدید فی العبادۃ)۔اسی طرح روزوں کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعہ مومنوں کو ایک مہینہ تک اپنے جائز حقوق کو بھی ترک کرنے کی مشق کرائی جاتی ہے۔انسان گیارہ مہینے حرام چھوڑنے کی مشق کرتا ہے مگر بارھویں مہینہ میں وہ حرام نہیں بلکہ حلال چھوڑنے کی مشق کرتا ہے۔یعنی روزوں کے علاوہ دوسرے ایام میں ہم یہ نمونہ دکھاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کےلئے ہم کس طرح حرام چھوڑسکتے ہیں۔مگر روزوں کے ایام میں ہم یہ نمونہ دکھاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے لئے کس طرح حلال چھوڑ سکتے ہیں اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حلال چھوڑنے کی عادت پیدا کئے بغیر دنیا میں حقیقی کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔دنیا میں اکثر فساد اس لئے نہیں ہوتے کہ لوگ حرام چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہوتے بلکہ اکثر فساداس لئے ہوتے ہیں کہ لوگ حلال کو بھی ترک کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔وہ لوگ بہت ہی کم ہیں جو ناجائز