تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 171 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 171

اس کے مقابلہ میں روزہ امیر لوگوں کے لئے تقویٰ کے حصول کا ذریعہ اس طرح ہوتا ہے کہ جب ایک انسان جس کے پاس کھانے پینے کے تمام سامان موجو دہوتے ہیں محض اللہ تعالیٰ کی رضاء کے لئے اپنے آپ کو فاقہ میں ڈالتا ہے اور خدا تعالیٰ کو خوش کرنے کے لئے کچھ نہیں کھاتا اور جو حلال چیزیں خدا تعالیٰ نے اُسے دی ہیں انہیں بھی استعمال نہیں کرتا۔اس کے گھر میں گھی، گوشت ، چاول وغیرہ کھانے کی تمام ضروریات موجو د ہوتی ہیں مگر وہ خدا تعالیٰ کے لئے انہیں ترک کر دیتا ہے تو اس کے دل میں خود بخود یہ جذبہ پیدا ہوتاہے کہ جب میں نے حلال چیزوں کو بھی خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے چھوڑ دیا ہے تو میں ان چیزوں کی کیوں خواہش کروں جنہیں خدا تعالیٰ نے حرام قرار دیاہوا ہے؟ اس طرح اس کے اندر ضبطِ نفس کی قوت پیدا ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے قدم کو نیکیوں کے میدان میں بڑھاتا چلا جاتا ہے۔روزوں کا ایک روحانی فائدہ یہ بھی ہے کہ اس سے انسان خدا تعالیٰ سے مشابہت اختیار کرلیتا ہے۔خدا تعالیٰ کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ نیند سے پاک ہے۔انسان ایسا تو نہیں کر سکتا کہ وہ اپنی نیند کو بالکل چھوڑ دے مگر وہ اپنی نیند کے ایک حصہ کو روزوں میں خدا تعالیٰ کےلئے قربان ضرور کرتا ہے۔سحری کھانے کے لئے اُٹھتا ہے۔تہجد پڑھتا ہے۔عورتیں جو روزہ نہ بھی رکھیں وہ سحری کے انتظام کے لئے جاگتی ہیں۔کچھ وقت دعائوں میں اور کچھ نماز میں صرف کرنا پڑتا ہے اور اس طرح رات کا بہت کم حصہ سونے کے لئے باقی رہ جاتا ہے اور کام کرنے والوں کے لئے تو گرمی کے موسم میں دو تین گھنٹے ہی نیند کے لئے باقی رہ جاتے ہیں۔اس طرح انسان کو اللہ تعالیٰ سے ایک مشابہت پیدا ہو جاتی ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کھانے پینے سے پاک ہے۔انسان کھانا پینا بالکل تو نہیں چھوڑ سکتا مگر پھر بھی رمضان میں اللہ تعالیٰ سے وہ ایک قسم کی مشابہت ضرور پیدا کر لیتا ہے پھر جس طرح اللہ تعالیٰ سے خیر ہی خیر ظاہر ہوتا ہے اسی طرح انسان کو بھی روزوں میں خاص طور پر نیکیاں کرنے کا حکم ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔جو شخص غیبت، چغلخوری اور بدگوئی وغیرہ بُری باتوں سے پرہیز نہیں کرتا اس کا روزہ نہیں ہوتا۔گویا مومن بھی کوشش کرتا ہے کہ اس سے خیر ہی خیر ظاہر ہو۔اور وہ غیبت اور لڑائی جھگڑے سے بچتا رہے۔اس طرح وہ اس حد تک خدا تعالیٰ سے مشابہت پیدا کر لیتا ہے جس حد تک ہو سکتی ہے۔اور یہ ظاہر ہے کہ ہر چیز اپنی مثل کی طرف دوڑتی ہے۔فارسی میں ضرب المثل ہے کہ ’’کند ہم جنس باہم جنس پرواز‘‘ پس روزہ کا ایک روحانی فائدہ یہ ہے کہ انسان کا خدا تعالیٰ سے اعلیٰ درجہ کا اتصال ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ خود اس کا محافظ بن جاتا ہے۔