تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 170 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 170

کے وصال سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔غرباء بیچارے سارا سال تنگی سے گذارہ کرتے ہیں اور بعض دفعہ انہیں کئی کئی فاقے بھی آجاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے رمضان کے ذریعہ انہیں توجہ دلائی ہے کہ وہ ان فاقوں سے بھی ثواب حاصل کر سکتے ہیں۔اور خدا تعالیٰ کے لئے فاقوں کا اتنا بڑا ثواب ہے کہ حدیث میں آتا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اَلصَّوْمُ لِیْ وَاَنَا اُجْزٰی بِہٖ یعنی ساری نیکیوں کے فوائد اور ثواب الگ الگ ہیں لیکن روزہ کی جزاء خود میری ذات ہے۔اور خدا تعالیٰ کے ملنے کے بعد انسان کو اور کیا چاہیے! غرض روزوں کے ذریعہ غربا ء کو یہ نکتہ بتایا گیا ہے کہ ان تنگیوں پر بھی اگر وہ بے صبر اور ناشکر ے نہ ہوں اور حرف شکایت زبان پر نا لائیں جیسا کہ بعض نادان کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہمیں خدا تعالیٰ نے کیا دیا ہے کہ نمازیں پڑھیں اور روزے رکھیں تو یہی فاقے ان کے لئے نیکیاں بن جائیں گی۔اور ان کا بدلہ خود خدا تعالیٰ ہو جائےگا۔پس اللہ تعالیٰ نے روزوں کو غرباء کے لئے تسکین کا موجب بنایا ہے تاکہ وہ مایوس نہ ہوں او ریہ نہ کہیں کہ ہماری فقرو فاقہ کی زندگی کس کام کی! اللہ تعالیٰ نے روزہ میں ا نہیں یہ ُگر بتایا ہے کہ اگر وہ اس فقروفاقہ کی زندگی کو خدا تعالیٰ کی رضاء کے مطابق گذاریں تو یہی انہیں خدا تعالیٰ سے ملا سکتی ہے۔دنیا میں اس قدر لوگ امیر نہیں جتنے غریب ہیں اور تمام دینی سلسلوں کی ابتداء بھی غرباء سے ہی ہوئی ہے اور انتہا بھی غرباء پر ہی ہوئی۔بلکہ قریباً تمام انبیاء بھی غرباء میں سے ہی ہوئے ہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کوئی بڑے آدمی نہ تھے۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کوئی بڑے آدمی نہ تھے۔حضرت مسیح موعو د علیہ الصلوٰۃ و السلام بھی کوئی امیر کبیر نہ تھے۔آپ کی جائیداد کی قیمت قادیان کے ترقی کرنے کے باعث بڑھ گئی۔ورنہ اس کی قیمت خود آپ نے دس ہزار روپیہ لگائی تھی اور اتنی مالیت کی جائیداد سے کونسی بڑی آمد ہوسکتی ہے؟ پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام بھی بڑے آدمی نہ تھے۔اگرچہ انبیاء کو اللہ تعالیٰ بعد میںبڑا بنا دیتا ہے لیکن یہ سب کچھ بعد میں فضل کے طور پر ہوا۔ابتداء میں تمام سلسلوں کے بانی غریب ہی ہوئے امراء اور بادشاہ نہیں ہوئے۔بیشک درمیانی طبقہ کے لوگوں میں سے بھی بعض دفعہ انبیاء ہوتے رہے لیکن بادشاہ صرف چند ایک ہی ہوئے۔جیسے حضرت دائود علیہ السلام یاحضرت سلیمان علیہ السلام۔مگر یہ بھی ایسے نہیں ہیں کہ کسی سلسلہ کے بانی ہوں۔پھر دنیا کی اسّی فیصدی آبادی غریب ہے۔اللہ تعالیٰ نے اتنی بڑی کثرت کی دلجوئی رمضان کے ذریعہ کی ہے اور بتایا ہے کہ یہ مت سمجھو کہ فاقہ کش کو خدا تعالیٰ نہیں مل سکتا اگر ایسا ہوتا تو رمضان کے نتیجہ میں کیوں ملتا؟ پس وہ غرباء جو سمجھتے ہیں کہ ان کی عمر رائیگاں گئی۔اللہ تعالیٰ نے اُنہیں رمضان کے ذریعہ بتایا ہے کہ وہ انہی فاقوں میں سے گذر کر اللہ تعالیٰ کے بڑے بڑے فیوض حاصل کر سکتے ہیں بشرطیکہ فاقہ میں بھی وہ اللہ تعالیٰ کو نہ بھولیں اور اس کے متعلق اپنی زبان پرکوئی حرفِ شکایت نہ لائیں۔