تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 169
وہ پیتا ہے۔وہ سوتا ہے۔اور وہ جنسی تعلقات قائم رکھتا ہے۔کسی صوفی نے کہا ہے کہ تصّوف کی جان کم بولنا، کم کھانا اور کم سونا ہے اور رمضان اس تصّوف کی ساری جان کا نچوڑ اپنے اندر رکھتا ہے کم سونا آپ ہی اس میں آجاتا ہے کیونکہ رات کو تہجد کے لئے اُٹھنا پڑتا ہے۔کم کھانا بھی ظاہر بات ہے کیونکہ سارا دن فاقہ کرنا پڑتا ہے۔اور جنسی تعلقات کی کمی بھی ظاہر ہے پھر کم بولنا بھی رمضان میں آجاتا ہے۔اس لئے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ ٖوسلم نے ایک دفعہ فرمایا۔روزہ یہ نہیں کہ انسان اپنا منہ کھانے پینے سے بند رکھے بلکہ روزہ یہ ہے کہ تُو لغو باتیں بھی نہ کرے۔(بخاری کتاب الصوم باب من لم یدع قول الزور والعمل بہ فی الصوم)۔پس روزہ دار کے لئے بیہودہ باتوں سے بچنا لڑائی جھگڑے سے بچنا اور اسی طرح کی اَور لغو باتوں سے پرہیز کرنا بھی ضروری ہوتاہے۔اس طرح کم بولنا بھی رمضان میں آگیا۔گویا کم کھانا۔کم بولنا۔کم سونا اور جنسی تعلقات کم کرنا یہ چاروں باتیں رمضان میں آگئیں اور یہ چاروں چیزیں نہایت ہی اہم ہیں۔اور انسانی زندگی کا ان سے گہرا تعلق ہے پس جب ایک روزہ دار اِن چاروں آرام و آسائش کے سامانوں میں کمی کرتا ہے تو اس میں مشقّت برداشت کرنے کی عادت پیدا ہو جاتی ہے اور وہ زندگی کے ہر دور میں مشکلات کا مردانہ وار مقابلہ کرتا اور کامیابی حاصل کرتا ہے۔پھر لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ میں ایک اور فائدہ یہ بتایا کہ روزہ رکھنے والا برائیوں اور بدیوں سے بچ جاتا ہے اور یہ غرض اس طرح پوری ہوتی ہے کہ دنیا سے انقطاع کی وجہ سے انسان کی روحانی نظر تیز ہو جاتی ہے اور وہ ان عیوب کو دیکھ لیتا ہے جو اُسے پہلے نظر نہ آتے تھے۔اسی طرح گناہوں سے انسان اس طرح بھی بچ جاتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ہے روزہ اس چیز کا نام نہیں کہ کوئی شخص اپنا منہ بند رکھے اور سارا دن نہ کچھ کھائے اور نہ پیئے بلکہ روزہ یہ ہے کہ مونہہ کو کھانے پینے سے ہی نہ روکا جائے بلکہ اُسے ہر روحانی نقصان دہ اور ضر ررساں چیز سے بھی بچایا جائے۔نہ جھوٹ بولا جائے۔نہ گالیاں دی جائیں۔نہ غیبت کی جائے۔نہ جھگڑا کیا جائے۔اب دیکھو زبان پر قابو رکھنے کا حکم تو ہمیشہ کے لئے ہے لیکن روزہ دار خاص طور پر اپنی زبان پر قابو رکھتا ہے کیونکہ اگر وہ ایسا نہ کرے تو اس کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور اگر کوئی شخص ایک مہینہ تک اپنی زبان پر قابو رکھتا ہے تو یہ امر باقی گیارہ مہینوں میں بھی اس کے لئے حفاظت کا ایک ذریعہ بن جاتا ہے۔اور اس طرح روزہ اُسے ہمیشہ کے لئے گناہوں سے بچا لیتا ہے۔پھر لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ میں روزوں کا ایک اَور فائدہ یہ بتایا گیا ہے کہ اس کے نتیجہ میں تقویٰ پر ثباتِ قدم حاصل ہوتا ہے اور انسان کو روحانیت کے اعلیٰ مدارج حاصل ہوتے ہیں۔چنانچہ روزوں کے نتیجہ میں صرف امراء ہی اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل نہیں کرتے بلکہ غرباء بھی اپنے اندر ایک نیا روحانی انقلاب محسوس کرتے ہیں۔اور وہ بھی اللہ تعالیٰ