تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 168 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 168

آنے پر ہمّت نہیں ہارتے بلکہ دلیری سے ان کا مقابلہ کرتے اور کامیابی حاصل کرتے ہیں۔دنیوی گورنمنٹوں میں بھی ایک ریزرو فوج ہوتی ہے جو سال میں ایک یا دو مہینے کام کرتی ہے اور جب جنگ کا موقعہ آتا ہے تو چونکہ اس کو مشق کروائی ہوئی ہوتی ہے اس لئے فوراً اسے بلوالیا جاتا ہے۔چونکہ عام طور پر تمام مسلمان بارہ مہینے روزے نہیں رکھتے اور نہ ہی تہجد پڑھتے ہیں اس لئے رمضان میں خصوصیت کے ساتھ ہدایت فرما دی کہ تمام مسلمان اس ماہ میں روزوں کی مشق کریں جس طرح وہ فوج جو مشق کرتی رہتی ہے دشمن کی فوج سے شکست نہیں کھاتی اسی طرح جس قوم کے لوگ متّقی اور نیک ہوتے ہیں اور جو خدا تعالیٰ کے لئے ہر ایک چیز کو چھوڑنے والے ہوتے ہیں شیطان کی مجال نہیں ہوتی کہ ان کو زک دے سکے یہی وجہ ہے کہ جب تک تمام مسلمان روحانی سپاہی تھے شیطان نے ان پر کوئی حملہ نہیں کیا لیکن جب خال خال رہ گئے تو اس وقت ان پر حملہ کیا گیا اور شیطان نے ان کے دل میں طرح طرح کے وسوسے ڈال کر ان کو تباہ کر دیا۔پس روزے قوم میں قربانی کی عادت پید ا کرنے کا موجب ہوتے ہیں۔دین کی خدمت کے لئے بالعموم مومنوں کو گھروں سے نکلنا پڑتا ہے۔اور تبلیغی جہاد میں کھانے پینے کی تکالیف کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔غرباء کو تو ایسی تکالیف برداشت کرنے کی عادت ہوتی ہے مگر امراء کو اس کی عادت نہیں ہوتی۔پس روزوں کے ذریعہ ان کو بھی بھوک اور پیاس کی برداشت کی مشق کرائی جاتی ہے تاکہ جس دن خدا تعالیٰ کی طرف سے آواز آئے کہ اے مسلمانو! آئو اور خدا تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرو تو وہ سب اکٹھے اُٹھ کھڑے ہوں اور خدا تعالیٰ کی راہ میں بغیر کسی قسم کا بوجھ محسوس کئے اپنے آپ کو پیش کر دیں۔پس روزوں کا یہ ایک بہت بڑا فائدہ ہے کہ اس کے ذریعہ انسان کو نیکی کے لئے مشقّت برداشت کرنے کی عادت پیدا ہو جاتی ہے۔انسان دنیا میں کئی قسم کے کام کرتا ہے۔وہ محنت و مشقّت بھی کرتا ہے۔وہ آوارگی بھی کرتا ہے وہ اِدھر اُدھر بھی پھرتا ہے وہ گپیں بھی ہانکتا ہے۔بالکل فارغ نہ انسانی دماغ رہتا ہے نہ اس کا جسم۔کچھ نہ کچھ کام انسان ضرور کرتا رہتا ہے۔مگر بعض لغو کام ہوتے ہیں بعض مضر اور بعض مفید اور بعض بہت ہی اچھے۔لیکن رمضان انسان کو ایک ایسے کام کی عادت ڈالتا ہے جس کے نتیجہ میں اسے نیک کاموں میں مشقّت برداشت کرنے کی عادت ہو جاتی ہے انسانی زندگی کی راحت اور آرام کی چیزیں کیا ہوتی ہیں یہی کھانا پینا سونا اور جنسی تعلقات۔تمدن کا اعلیٰ نمونہ جنسی تعلقات ہیں۔جن میں دوستوں سے ملنا اور عزیزوں سے تعلقات رکھنا بھی شامل ہے مگر جنسی تعلقات میں سب سے زیادہ قریبی تعلق میاںبیوی کا ہے پس انسانی آرام انہی چند باتوں میں مضمر ہے کہ وہ کھاتا ہے۔