تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 13 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 13

حَیْثُ مَاکُنْتَ فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ توجہاں کہیں بھی ہو اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کرلے۔تب تو یہ معنے صحیح ہو سکتے تھے لیکن یہاں تو یہ فرمایا گیا ہے کہ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ یعنی اے محمد رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وآلہ ٖ وسلم )یا اے مسلمانو! جہاں سے بھی تم نکلو تم اپنے منہ مسجد حرام کی طرف کر لو۔اب یہ صاف بات ہے کہ نماز نکلتے وقت نہیں پڑھی جاتی بلکہ کسی جگہ ہوتے ہوئے نماز پڑھی جاتی ہے۔پس معلوم ہوا کہ یہاں نماز پڑھنے کے معنے کرنا کسی صورت میں بھی درست نہیں۔مفسرین کہتے ہیں کہ اگر نماز اور خروج کا کوئی تعلق تسلیم نہ کیا جائے تو پھر تکرار لازم آتا ہے حالانکہ یہ بھی غلط ہے۔انہیں قرآن مجید میں تکرار صرف اس لئے نظر آتا ہے کہ وہ قرآن کریم کے صحیح مطالب اور مضامین کے باہمی ربط کو نہیں سمجھ سکے۔انہیں جہاں بھی کوئی اعتراض نظر آتاہے فوراً ناسخ و منسوخ کی بحث شروع کر دیتے ہیں اور ایک آیت کو ناسخ اور دوسری کو منسوخ قرار دےکر اعتراض سے چھٹکارا حاصل کر لیتے ہیں۔حالانکہ قرآن کریم کے جو حقائق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دنیا کو بتائے ہیں اگر ان کو مدِّنظر رکھا جائے تو نہ قرآن کریم میں کوئی تکرار نظر آسکتا ہے اور نہ کسی آیت کو منسوخ قرار دینا پڑتا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب مکہ مکرمہ سے نکالا گیا اس وقت دشمنانِ اسلام کو یہ اعتراض کرنے کا موقعہ ملا کہ جب آپ دُعائے ابراہیمی کے موعود تھے اور خانہ کعبہ کے ساتھ آپ کا تعلق تھا تو آپ کو مکہ سے کیوں نکال دیا گیا۔جب آپ کو مکہ سے نکال دیا گیا ہے تو آپ دُعائے ابراہیمی کے کس طرح مصداق ہو سکتے ہیں؟ اس اعتراض کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِالْحَرَامِ اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! تمہارا مکہ سے یہ نکلنا عارضی ہے ہم تم سے یہ وعدہ کرتے ہیں کہ ہم دوبارہ تمہیں یہ موقعہ دیں گے اور تم مکہ پر قابض ہو جائوگے۔لیکن جہاںاللہ تعالیٰ کے مومن بندوں سے یہ وعدے ہوتے ہیں وہاں وہ ان سے یہ بھی اُمید کرتا ہے کہ وہ اس وعدے کو پورا کرنے کی کوشش کریںگے یہ نہیں کہ خدا اُن سے وعدہ کرے اور وہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائیں اور وہ اس وعدہ کو پورا کرنے کی کوشش نہ کریں اور یہ سمجھ لیں کہ جب خدا تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے تو وہ اُسے خود پورا کرے۔ہمیں اُس کے پورا کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا کہ اُسے کنعان کا ملک دیا جائے گا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کو ساتھ لے کر چل پڑے۔جب وہ ملک سامنے آگیا تو آپ نے اپنی قوم سے کہا۔جائو اور لڑائی کر کے اس ملک پر قبضہ کر لو۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے غلطی سے یہ خیال کر لیا کہ خدا تعالیٰ نے یہ ملک ہمیں دینے کا وعدہ کیاہے اس لئے وہ خود ہی اس وعدے کو پورا کرے گا اور یہ ملک ہمارے قبضہ میں دے دےگا۔ہم نے اگر اس ملک کو فتح کیا تو پھر وعدے کا کیا فائدہ ہوا۔