تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 12 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 12

میں حکم وہ دینا چاہیے تھا جس کا زیادہ نمازوں پر اطلاق ہو سکتا۔نہ کہ ایسا حکم دیا جاتا جس پر عمل کرنے کا امکان سفر کی حالت میں بہت ہی کم ہوتا ہے مثلاً ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص شہر سے دس بجے صبح نکلے یا عصر اور مغرب کے درمیان نکلے یا آدھی رات کے وقت نکلے اور یہ سارے کے سارے اوقات ایسے ہیں جن میں نماز کا کوئی سوال پیدا ہی نہیں ہوتا۔ان حالات میں وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کا حکم بے معنی بن جاتا ہے۔کیونکہ کسی شہر سے نکلتے وقت شاذ ہی نماز کا موقعہ ہوتا ہے۔بالعموم یا تو انسان اس وقت نماز ادا کر چکا ہوتا ہے یا اگر ادا کرنی ہوتی ہے تو کچھ دیر کے بعد بھی وہ نماز پڑھ سکتاہے۔بہر حال خروج کے ساتھ نماز کا تعلق نہیں۔پھر ان معنوں کو اس صورت میں بھی درست تسلیم کیا جا سکتا تھا جب کوئی نماز خروج کے وقت سے بھی خاص طور پر تعلق رکھتی لیکن سب لوگ جانتے ہیں کہ کوئی نماز خروج کے وقت سے تعلق نہیں رکھتی ایسی صورت میں اس آیت کو بارادہ سفر گھر سے نکلنے پر چسپاں کرنا کسی طرح درست نہیں ہو سکتا۔مزید دلیل اس بات کی کہ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ سے مراد نماز میں قبلہ کی طرف منہ کرنا نہیں یہ ہے کہ سفر کی حالت میں تو بعض دفعہ جہت کا سوال بھی اُڑ جاتا ہے اور جدھر منہ ہو اُدھر ہی نماز جائز ہوجاتی ہے۔مثلاً جب انسان سواری سے اُتر نہ سکے توقرآن کریم اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے یہی ثابت ہے کہ اس وقت اس کا جدھر منہ ہو جائے اُدھر ہی نماز جائز ہے۔چاہے قبلہ کی طرف منہ ہو یا کسی اور طرف اس وقت جہت کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔مشرق مغرب شمال جنوب سب ایک جیسے ہوتے ہیں صرف قلبی توجہ خانہ کعبہ کی طرف ہونی ضروری ہے (البقرة:۱۱۶ و مسلم کتاب صلٰوة المسافرین باب جواز صلوٰۃ النافلۃ علی الدبۃ فی السفر حیث توجّھت )۔آجکل جب انسان ریل گاڑی میں بیٹھا ہوتا ہے تو اس وقت بھی جہت کی کوئی تخصیص نہیں ہوتی کیونکہ گاڑی کبھی شمال کی طرف کبھی جنوب کی طرف کبھی مشرق کی طرف اور کبھی مغرب کی طرف مڑتی اور چکر کھاتی رہتی ہے۔لیکن اس کے باوجود جو شخص اس میں بیٹھا نماز پڑھ رہا ہوتا ہے اس کی نماز میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا۔اگر مفسرین کے معنوں کو درست سمجھا جائے تو اس حکم پر نہ سوار عمل کر سکتا ہے اور نہ ریل گاڑی پر بیٹھنے والا عمل کر سکتا ہے۔پس جب خروج میں جہت کی تخصیص بھی قائم نہیں رہتی تو پھر اس آیت سے یہ مراد لینا کہ جہاں کہیں سے بھی تم نکلو خانہ کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھو۔کیسے درست ہو سکتا ہے؟ پھر یہ معنے اس لئے بھی درست نہیں کہ اس آیت کے لفظی معنے یہ بنتے ہیں کہ تم جہاں سے بھی نکلو اپنے منہ مسجد حرام کی طرف کر لو۔یا جہاں سے بھی تُو نکلے تو اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کر لے۔اب یہ تو ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ چلتے وقت نماز نہیں پڑھی جا سکتی بلکہ نماز ٹھہر کر ہی پڑھی جا سکتی ہے ہاں اگر اس آیت کے یہ الفاظ ہوتے کہ