تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 152
سے بُغض اور کینہ نکل جاتا ہے اور مقتول کی عزت قائم ہو جاتی ہے۔اگر قاتل کو سزا نہ ملے تو رشتہ داروں کے دل میں بغض اور کینہ رہتا ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے آدمی کو قتل کر کے اس کی ذلّت کی گئی ہے۔پس قصاص مقتول کی عزّت قائم کرنے کا بھی ایک ذریعہ ہے لیکن اس کے علاوہ میرے نزدیک اس آیت میں موجودہ زمانہ کے متعلق ایک پیشگوئی بھی پائی جاتی ہے۔عرب تو قصاص کے بڑی سختی سے پابند تھے۔یہاں تک کہ اگر باپ مارا جائے تو وہ پوتے سے بھی اس کابدلہ لے لیتے تھے۔پس یہ ہدایت صرف ان کو نہیں ہو سکتی بلکہ درحقیقت یہ آئندہ زمانہ کے لئے پیشگوئی ہے اور اس میں بتایا گیا ہے کہ ایک وقت آنے والا ہے جبکہ قصاص کو اُڑانے کی تلقین کی جائےگی اُس وقت تم مضبوطی سے اس تعلیم پر قائم رہنا جیسے آج کل بعض یوروپین ممالک میں اس قسم کی تحریکات وقتاً فوقتاً اٹھتی رہتی ہیں کہ موت کی سزا منسوخ ہونی چاہیے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے عقلمندو! ان تحریکات کو کبھی قبول نہ کرنا ورنہ اس کے بہت سے مفاسد ظاہر ہوںگے۔اور تمہاری جانوں کی کوئی قیمت باقی نہیں رہے گی۔آخر میںلَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ فرما کر اس طرف اشارہ فرمایا کہ ہم نے یہ حکم اسی لئے دیا ہے کہ تم قتل سے بچو اور اس زندگی کو پائو جو قصاص کے نتیجہ میں حاصل ہوتی ہے اگر تم قصاص کو چھوڑ دو گے تو نتیجہ یہ ہو گا کہ تمہارا تمدن درہم برہم ہو جائےگا۔پس تم اس بات سے بچو کہ تمہارا تمدن ٹوٹ جائے اور تمہار ا نظام درہم برہم ہو جائے او ر تمہاری جانوں اور مالوں کی کوئی قیمت باقی نہ رہے۔پھر اس کے علاوہ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ کے ایک اور معنے بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مجھے سمجھائے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ ان الفاظ میں یہ بتایا گیا ہے کہ زندگی کی تمہیں اس لئے ضرورت ہے کہ تم اور تقویٰ حاصل کر لو۔گویا بتایا کہ بے فائدہ جان گنوانا اس لئے قابلِ احتراز ہے کہ یہ دنیا دارالعمل ہے اس میں رہنے سے آخرت کا توشہ انسان جمع کر لیتا ہے۔پس اس کی حفاظت بھی ضروری ہے تاکہ تم تقویٰ حاصل کر سکو۔غرض ان الفاظ میں اللہ تعالیٰ نے وجہ بتا دی کہ مومن باوجود آخرت پر ایمان رکھنے کے زندگی کی کیوں قدر کرتا ہے۔كُتِبَ عَلَيْكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ اِنْ تَرَكَ خَيْرَا١ۖۚ جب تم میں سے کسی پر موت (کا وقت) آجائے تو تم پر بشرطیکہ وہ (یعنی مرنے والا) بہت سا مال چھوڑ ے۔ا۟لْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَ الْاَقْرَبِيْنَ بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ حَقًّا والدین اور قریبی رشتہ داروں کو (امر) معروف کی وصیت کر جانا فرض کیا گیا ہے۔