تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 151
دیّت وصول کرے۔یعنی اگر قاتل یکدم ادا نہیں کر سکتا تو وصول کرنے میں سختی نہ کرے بلکہ اُسے کچھ مہلت دے دے او ر دیّت دینے والے کو چاہیے کہ وہ ادا کرنے میں سُستی یا شرارت نہ کرے بلکہ تکلیف اٹھا کر بھی دیت ادا کر دے اور کسی ناواجب تاخیر یا شرارت سے کام نہ لے۔ذٰلِكَ تَخْفِيْفٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ رَحْمَةٌ۔فرمایا یہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارے لئے آسانی پیدا کر دی گئی ہے اور اس ذریعہ سے اس نے تمہارے لئے اپنی رحمت کا سامان مہیّاکیا ہے۔تمہیں چاہیے کہ اسے مدِّنظر رکھو اور خدا تعالیٰ کے اس احسان کی قدر کرو۔فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِيْمٌ فرماتا ہے کہ اگر اس کے بعد بھی کوئی زیادتی کرےگا اور اِعْتَدٰی سے کام لےگا تو اس کے لئے دردناک عذاب مقدّر ہے۔یعنی اگر مقتول کے ورثاء دیّت بھی لے لیں اور موقعہ پا کر دوسرے کو بھی قتل کر دیں تو وہ کسی رحم کے مستحق نہیں ہوںگے بلکہ انہیں لازماً سزا دی جائے گی۔یعنی حکومت دوسرے فریق کو انہیں معاف کرنے کی اجازت بھی نہیں دےگی تاکہ اس قسم کی وحشیانہ حرکات قومی اخلاق کو نہ بگاڑیں اور لوگوں کے اندر قانون کا احترام قائم ہو۔وَ لَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيٰوةٌ يّٰۤاُولِي الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۰۰۱۸۰ اور اے عقلمندو! تمہارے لئے (اس) بدلہ لینے میں زندگی (کا سامان) ہے (اور یہ حکم اس لئے ہے) تاکہ تم بچ جاؤ۔حلّ لُغات۔اَلْاَلْبَابُ جمع ہے۔اس کا مفرد لُبٌّہے اور لُبٌّ کے معنے مغز کے ہیں۔لیکن مراد عقل ہے۔تفسیر۔فرماتا ہے۔اے عقلمندو! قصاص میں تمہارے لئے زندگی ہے اسے کبھی نہ چھوڑنا۔یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ مرنے والا تو مر گیا اب اگر اس کے قاتل کو قتل کر دیا جائےگا تو مقتول تو زندہ نہیں ہو سکتا پھر قصاص میں حیات کس طرح ہوئی؟ سو یاد رکھنا چاہیے کہ اگر قاتل کو قتل نہ کیا جائے تو بالکل ممکن ہے کہ کل وہ کسی دوسرے کو قتل کر دے اور پرسوں کسی اور کو مار ڈالے۔اس لئے فرمایا کہ قصاص میں زندگی ہے۔یعنی اگر قاتل سے قصاص نہ لیا جائےگا تو وہ تم میں سے کسی اور کی زندگی کا خاتمہ کر دے گا لیکن اگر قاتل کو موت کی سزا دی جائے تو آئندہ قتل کے جرم کم ہو جائیںگے اور اس طرح کئی لوگوں کی جانیں بچ جائیںگی۔پھر اس رنگ میں بھی قصاص حیات کا موجب ہے کہ جب قاتل کو سزا مل جاتی ہے تو رشتہ داروں کے دلوں میں