تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 150 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 150

اور کونسی تجویز دنیا میں امن اور صلح کے قیام کی ہو سکتی ہے۔اگر ایک طرف مجرموں کو معاف کر دینے سے خطرات بڑھ جاتے ہیں تو دوسری طرف ایسا بھی دیکھا جاتا ہے کہ ایک شخص جرم تو کر لیتا ہے مگر بعد میں وہ خود بھی سخت پشیمان ہوتا ہے اور اس کے رشتہ داروں کی بھی ایسی نازک حالت ہوتی ہے کہ رحم کا تقاضا ہوتا ہے کہ اُسے چھوڑ دیا جائے اور خود جن لوگوں کے خلاف وہ جرم ہوتا ہے وہ بھی یا اُن کے ولی بھی چاہتے ہیں کہ اُس سے درگذر کریں ایسی صورت میں دونوں کے تقاضا کو پورا کرنے کے لئے موجودہ تمدن نے کوئی علاج نہیں رکھا۔صرف اسلام ہی ایسا مذہب ہے جس نے تیرہ سو سال پہلے سے ساتویں صدی کے تاریک تمدن میں ایسے اعلیٰ درجہ کے تمدن کی بنیاد رکھی جس کی نظیر بیسویں صدی کا دانا مدبّر بھی پیش نہیں کر سکتا۔لیکن جیسا کہ اوپر بتایا جا چکا ہے عفو سے کام لینا حاکم کا کام نہیں بلکہ مقتول کے اولیاء اور ورثاء کا کام ہے۔ہاں اگر حاکم مجاز دیکھے کہ عفواپنے اندر مضّرات کے بعض پہلو رکھتا ہے تو وہ معافی کو کالعدم بھی قرار دے سکتا ہے۔جیسا کہ حضرت علیؓ کے واقعہ سے ثابت کیا جا چکا ہے لیکن اگر وہ شخص جس کا حق ہے قصاص لے معاف نہ کرنا چاہے تو حکام کا فرض ہے کہ وہ لازماً قصاص لیں۔مِنْ اَخِیْہِ کہہ کر اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ بعض اوقات دشمنی اور عداوت اور بُغض سے قتل نہیں ہوتا بلکہ کسی وقتی جوش اور اشتعال کے نتیجہ میں بھی قتل ہو جاتا ہے اس لئے اَخِیْ کہہ کر قاتل کے لئے رحم کی تحریک کر دی کہ آخر وہ تمہارا بھائی ہے۔اگر اُس سے نادانستہ طور پر غلطی ہو گئی ہے تو تم جانے دو اور اُسے معاف کر دو۔اِدھر قاتل کو بھی شرمندہ کیا کہ تجھے شرم نہیں آتی کہ تو نے اپنے بھائی کو قتل کیا ہے۔شَیْ ءٌ اس جگہ نکرہ کے طور پر استعمال ہوا ہے اور عربی زبان میں نکرہ تعظیم کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے اور تحقیر کے لئے بھی۔پس فَمَنْ عُفِیَ لَہٗ مِنْ اَخِیْہِ شَیْءٌ سے مراد کُلّی معافی بھی ہو سکتی ہے اور جزوی بھی یعنی قتل نہ کرنا اور دیّت لے لینا یا دیّت میں بھی کمی کر دینا جائز ہے اور قتل نہ کرنا اور دیت بھی نہ لینا جائز ہے۔دونوں صورتوں میں سے جو بھی کوئی چاہے اختیار کر سکتا ہے اور اگر بعض ورثاء معاف کر دیں اور بعض نہ کریں تو قاتل کو قتل کی سزا نہیں دی جائےگی جیسے مقتول کے دو بیٹے ہوں ان میں سے ایک معاف کر دے اور دوسرا نہ کرے تو قاتل قتل نہیں ہو گا لیکن اگر حاکم سمجھے کہ چونکہ وارث ہی شرارت سے مروانے والے ہیں۔اس لیے وہ معاف کرتے ہیں تو حاکم معاف نہیں کرے گا۔بلکہ انہیں سزا دے گا۔اور وارثوں کی شرارت ثابت ہو جانے کی وجہ سے ان کی وراثت کا حق بھی زائل ہوجائےگا۔فَاتِّبَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ وَ اَدَآءٌ اِلَيْهِ بِاِحْسَانٍ میں یہ بتایا کہ دیّت لینے والے کو چاہیے کہ مناسب رنگ میں